وزیر اعظم شہباز شریف آج ترکیہ، ایران، آذربائیجان اور تاجکستان کے دورے پر روانہ ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
ویب ڈیسک:وزیراعظم شہباز شریف آج سے مختلف ممالک کا دورہ کریں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف آج سے 30 مئی تک ترکیہ، ایران، آذربائیجان اور تاجکستان کے دورے پر روانہ ہوں گے،وزیراعظم پاک بھارت کشیدگی کے دوران دوست ملکوں کی طرف سے پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کرینگے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف دورے کے دوران دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کریں گے، خطے اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔
اوکاڑہ ؛ ٹریفک حادثہ میں باپ سمیت 3 بچے جاں بحق ہوگئے
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف 29 اور 30 مئی کو تاجکستان کے شہر دوشنبے میں گلیشیئرز پر بین الاقوامی کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے
دوسری جانب نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا آذربائیجان کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں دو طرفہ تعلقات، خطے اور عالمی منظر نامے پر تبادلہ خیال کیا گیا، وزیر اعظم کے دورہ آذربائیجان پر بھی بات چیت ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: شہباز شریف
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔