اسرائیل کی گھر پر بمباری، فلسطینی خاتون ڈاکٹر کے 9 بچے شہید
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
اسرائیل کی گھر پر بمباری، فلسطینی خاتون ڈاکٹر کے 9 بچے شہید WhatsAppFacebookTwitter 0 25 May, 2025 سب نیوز
خان یونس(آئی پی ایس) غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملوں میں خاتون ماہر اطفال کے 9 بچے شہید ہوگئے۔
اسرائیلی فوج نے غزہ کے شہر خان یونس کی رہائشی خاتون ڈاکٹر عالہ النجار کے گھر پر بمباری کی جس کے نتیجے میں خاتون ڈاکٹر کے 10 میں سے 9 بچے شہید ہوگئے اور صرف ایک زندہ بچ سکا، شہید بچوں کی عمریں 7 ماہ سے 12 سال کے درمیان تھیں۔
عرب میڈیا کے مطابق حملے میں ڈاکٹر عالہ النجار کے شوہر بھی زخمی ہوئے جب کہ بچ جانے والا واحد بچہ بھی زخمی حالت میں ہے۔
قطری ٹی وی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں کے دوران درجنوں فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔
7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد اب 54 ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ حملوں میں ایک لاکھ 22 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے۔
عالمی ادارہ خوراک نے بتایا ہے کہ غزہ میں ایک چار سالہ بچہ محمد یٰسین خوراک نہ ملنے کی وجہ سے جاں بحق ہو گیا ہے جبکہ مزید 70 ہزار بچوں کی زندگیاں بھوک کی وجہ سے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ پانچ لاکھ افراد شدید بھوک کا سامنا کر رہے ہیں اور غزہ میں قحط کے آثار نمایاں ہیں۔
اسرائیل نے حالیہ دنوں میں کچھ خوراک، آٹا اور بچوں کی غذا داخل ہونے دی ہے مگر اقوام متحدہ کے مطابق یہ بہت نا کافی ہے اور ضرورت کے مقابلے میں سمندر میں قطرہ کے مترادف ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا 24 کروڑ لوگوں کی بقا کیلئے خطرہ ہے، پاکستان کا انتباہ پشاور بی آر ٹی فیز ٹو منصوبے کا فیصلہ؛ چین سے کتنی بسیں خریدی جائیں گی؟تفصیلات سب نیوز پر کوہستان اسکینڈل: وزیراعلی کے پی نے ایم پی اے ن لیگ کو 1 ارب کا نوٹس جاری کر دیا پنجاب: بارش، طوفان نے تباہی مچا دی،9افراد جاں بحق، لاہور میں اورنج ٹرین بند متحدہ عرب امارات میں مئی میں گرمی کا 16 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا انڈین فوجیوں نے سرحد پار کرنے والے پاکستانی شخص کو گولی مار کر شہید کر دیا ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کی تفتان پر کارروائی، بدنام زمانہ انسانی اسمگلر گرفتارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خاتون ڈاکٹر بچے شہید
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔