جنوبی ایشیا ایک بار پھر پاک - بھارت کشیدگی کے سائے میں آیا، مگر اس بار سیاسی، سفارتی اور جغرافیائی توازن نے ایک نئی شکل اختیار کی۔ جہاں بھارت کو اپنی جارحانہ اور توسیع پسندانہ پالیسیوں کے باعث شدید داخلی و خارجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، وہیں پاکستان نے متوازن حکمت عملی، فعال سفارت کاری اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اپنی علاقائی سالمیت کا دفاع کیا بلکہ ایک ذمے دار ریاست کے طور پر اپنی عالمی حیثیت کو مزید مضبوط کیا۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے ہمیشہ قومی سلامتی اور عسکری قوت کے بیانیے کو انتخابی حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا۔ حالیہ کشیدگی میں بھی یہی طرز عمل اختیار کیا گیا، جہاں بھارتی حکومت نے ایک جانب عسکری کارروائیوں کے دعوے کیے تو دوسری طرف میڈیا کے ذریعے عوامی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی۔ تاہم جب نتائج ان دعوؤں کے برعکس نکلے تو اپوزیشن نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے ’’آپریشن سندور‘‘ کے دوران بھارتی فضائیہ کے طیاروں کے نقصان پر مودی سرکار سے سخت سوالات کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی کوئی بڑی عسکری کامیابی حاصل ہوئی ہے تو بھارت عالمی حمایت سے کیوں محروم رہا؟ سوشل میڈیا پر بھی ’’فیک وار‘‘، ’’الیکشن اسٹنٹ‘‘ اور ’’ریاستی ڈرامہ‘‘ جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرنے لگے، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ عوام میں سرکاری بیانیے پر عدم اعتماد بڑھ رہا ہے۔نریندر مودی کو جس تنظیم کی مکمل حمایت حاصل رہی، وہ ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) تھی۔ لیکن حالیہ واقعات نے اس تنظیم کے سینئر رہنماؤں کو بھی سوچنے پر مجبور کردیا۔ کئی رہنماؤں نے غیرعلانیہ طور پر مودی کی جنگی پالیسی کو ’’ناکام شو آف پاور‘‘ قرار دیا۔ بی جے پی کے بعض اراکین نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ مودی کی جارحانہ حکمت عملی بھارت کو عالمی تنہائی کی طرف دھکیل رہی ہے۔اگر نریندر مودی کے 2014 سے اقتدار میں آنے کے بعد کیے گئے بیرونی دوروں کا تنقیدی و تجزیاتی جائزہ لیا جائے تو نریندر مودی نے 2014 سے اب تک 70 سے زائد غیر ملکی دورے کیے۔ ان میں امریکا، چین، روس، یورپ، مشرق وسطیٰ اور ایشیائی ممالک شامل ہیں۔ ابتدا میں ان دوروں کو بھارت کی عالمی ساکھ کو بہتر بنانے کی کوشش سمجھا گیا، لیکن بعد ازاں یہ سوالات جنم لینے لگے کہ ان دوروں کا عملی فائدہ کیا ہوا؟ پاکستان جیسے اہم علاقائی فریق کے خلاف بھارت کوئی خاطر خواہ سفارتی حمایت حاصل نہ کرسکا۔ او آئی سی نے کشمیر پر بھارت کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے مؤقف کی حمایت میں قراردادیں منظور کیں، جبکہ اقوام متحدہ نے بھارت کی یکطرفہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔پاکستان نے کشیدگی کے آغاز ہی سے متوازن اور بردبار حکمت عملی اپنائی۔ بھارت کی جانب سے یکطرفہ آپریشن ’’سندور‘‘ کے دعوے کیے گئے، تو پاکستان نے عسکری محاذ پر بھرپور تیاری کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی فوری اقدامات کیے۔ پاکستان نے ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کا آغاز کیا، جس کا مقصد محض عسکری جواب دینا نہیں بلکہ ایک سیاسی و سفارتی بیانیہ مضبوط کرنا تھا۔’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کو نہ صرف پاکستانی عوام کی مکمل حمایت حاصل ہوئی بلکہ عالمی مبصرین نے بھی اسے ایک متوازن، محدود اور مؤثر عسکری حکمت عملی قرار دیا۔ پاکستان نے اشتعال انگیزی سے گریز کرتے ہوئے دفاع کا حق استعمال کیا، اور اپنے اقدامات کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق پیش کیا۔ اس سے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نئی توانائی ملی اور اسے ایک پرامن اور ذمے دار نیوکلیئر ریاست کے طور پر سراہا گیا۔پاکستانی دفترِ خارجہ اور فوجی قیادت نے مشترکہ حکمت عملی کے تحت دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے اقوامِ متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین، چین، ترکی اور دیگر اہم ممالک سے براہِ راست رابطے کیے۔ ان رابطوں نے واضح کیا کہ پاکستان بین الاقوامی برادری سے رابطے میں ہے اور ذمے داری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔چین، ترکی اور آذربائیجان نے پاکستان کے مؤقف کی نہ صرف زبانی بلکہ عملی حمایت کی۔ چین نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی اور بھارت کی یکطرفہ پالیسیوں پر تنقید کی۔ ترکی نے بھارتی اشتعال انگیزی پر براہِ راست بیانات جاری کیے اور پاکستان کے دفاعی حق کو تسلیم کیا۔ آذربائیجان نے بھی بھرپور سفارتی حمایت فراہم کی، جس سے یہ ثابت ہوا کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لا رہی ہیں۔اس کے برعکس، بھارت کو روایتی حمایت تک میسر نہ آ سکی۔ یورپی ممالک اور کئی نیوٹرل طاقتیں اس بار بھارت کے موقف کی حمایت سے گریزاں رہیں۔ بعض مبصرین نے بھارت کی پالیسی کو علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان نے اس بحران میں جس تدبر، صبر اور ذمے داری کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ اب وقت ہے کہ پاکستان اس سفارتی کامیابی کو ایک نئے آغاز میں تبدیل کرے۔ اقتصادی سفارت کاری کو فروغ دینا، سی پیک جیسے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا، اور علاقائی و عالمی طاقتوں کے ساتھ باہمی اعتماد پر مبنی تعلقات قائم رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔داخلی سطح پر اتحاد، تعلیم، ٹیکنالوجی، اور میڈیا کے شعبوں میں اصلاحات سے نہ صرف قومی ترقی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک جدید، معتدل اور قابلِ اعتبار ریاست کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے قومی پالیسیوں میں تسلسل، میڈیا کا مثبت کردار، نوجوانوں کی شمولیت اور عالمی سطح پر مؤثر عوامی سفارت کاری ضروری ہو گی۔پاک بھارت حالیہ کشیدگی نے ایک نیا منظرنامہ پیش کیا ہے، جہاں پاکستان نے ایک ذمے دار ریاست کا کردار ادا کرتے ہوئے عسکری، سفارتی اور سیاسی محاذوں پر بہترین حکمت عملی اختیار کی۔ یہ صورتحال عالمی برادری کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کےلیے پاکستان جیسے باوقار شراکت دار کے ساتھ کھڑے ہوں۔ پاکستان کو اب ان کامیابیوں کو مستقبل کی ترقی، استحکام اور امن کی بنیاد بنانا ہوگا، تاکہ خطے میں ایک متوازن اور خوشحال مستقبل کی ضمانت دی جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پاکستان نے کہ پاکستان پاکستان کے کرتے ہوئے حکمت عملی کے طور پر بھارت کی بھارت کو نے ایک

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت