امید ہے عمران خان عید سے پہلے رہا ہوں گے، چیئرمین پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ مجھے امید ہے کیس فکس ہو جائے گا اور بانی پی ٹی آئی عمران خان عید سے پہلے رہا ہوں گے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ورکرز اپنے جذبات قابو میں رکھیں، ہم بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ ہم نے دھرنے اور احتجاج بھی کیے، ہم اسمبلی میں بھی بات کر رہے ہیں۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے ورکرز کے سوالات اٹھانا ٹھیک ہے، ورکرز کے جذبات کی قدر کرتے ہیں، کوئی بھی یہ تصور نہیں کر سکتا ہے عمران خان نے دو سال جیل میں کیوں گزارے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا کہنا ہے اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اللہ سے مدد مانگتے ہیں، ہر مشکل میں اللہ سے مدد مانگتے ہیں اور اللہ راستہ نکالے گا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ دو سالوں سے ہمارے لوگ برداشت کرتے کرتے تھک گئے اور ججز بھی فیصلہ لکھتے لکھتے تھک گئے ہیں، ہم کوشش کر رہے ہیں بانی پی ٹی آئی کے کیسز لگیں اور میرٹ پر فیصلے ہوں۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ قائم مقام چیف جسٹس نے ہمارے بیرسٹر گوہر اور لطیف کھوسہ کو کمٹمنٹ کی تھی کہ رواں ہفتے عمران خان کی درخواستیں مقرر ہونی ہے، قائم مقام چیف جسٹس نے وعدہ کیا ہے کسی عام آدمی نے نہیں اور قائم مقام چیف جسٹس کے وعدے میں کوئی بات تو ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ کسی کے لیے انصاف کے دروازے بند ہونے سے عدم استحکام ہوگا، سائل عدالت میں انصاف لینے آتے ہیں اور اگر سائل کو انصاف فراہم نہ کیا جائے تو یہ زیادتی ہے۔ ہم آئین اور قانون پر یقین رکھتے ہیں، ہم پریشر ڈالنے کے لیے آتے رہیں گے۔
شبلی فراز کا کہنا تھا کہ 26 ویں آئینی ترمیم پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی مرہون منت ہے، دونوں جماعتوں نے اپنی سیاست تباہ کر دی ہے، عمران خان کی رہائی ہوتے ہی ان دونوں کی حکومت ختم ہو جائے گی۔
یوم تکبیر پر عام تعطیل: کراچی انٹر بورڈ کے 28 مئی کو ہونیوالے امتحانات ملتوی
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہیں اور کا کہنا کے لیے
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :