اسلام آباد(  نیوز ڈیسک  )   قربانی کرنے کی نیت رکھنے والوں کے لیے ایک اہم اسلامی ہدایت یہ ہے کہ جب ذوالحجہ کا چاند نظر آ جائے، تو انہیں اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے اجتناب کرنا چاہیے، یہاں تک کہ قربانی ہو جائے۔ یہ ہدایت نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ سے ثابت ہے۔

حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جب ذوالحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔
(صحیح مسلم، حدیث: 1977)

اس حدیث کی روشنی میں فقہاءِ کرام فرماتے ہیں کہ جو شخص قربانی کا ارادہ رکھے، اُس کے لیے مستحب (مستحسن اور باعثِ ثواب) ہے کہ وہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی کرنے تک اپنے ناخن اور بال نہ کاٹے۔ اگر کوئی بال یا ناخن کاٹ لے تو اس پر کوئی کفارہ یا فدیہ لازم نہیں آتا، البتہ سنت کی خلاف ورزی ضرور ہوتی ہے۔

سال 2025 میں پاکستان میں اگر چاند نظر آنے کی روایتی شہادت کی بنیاد پر قمری تاریخوں کا تعین کیا جائے، تو 29 ذوالقعدہ 1446ھ بدھ، 28 مئی 2025ء کو ہوگی۔ اس حساب سے توقع ہے کہ یکم ذوالحجہ جمعرات، 29 مئی کو ہوگی۔ چنانچہ جو مسلمان قربانی کی نیت رکھتے ہیں، اُن کے لیے بدھ، 28 مئی 2025 (یعنی 29 ذوالقعدہ) کو مغرب کے بعد ذوالحجہ شروع ہو جائے گا، اور اسی وقت سے اُن پر لازم ہوگا کہ وہ اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے رک جائیں۔

یہ احتیاط اور ادب اس بات کی علامت ہے کہ قربانی کی تیاری جسمانی اور روحانی لحاظ سے کی جا رہی ہے، اور بندہ اپنے آپ کو اللہ کے حکم کے تابع کر رہا ہے۔ نبی ﷺ نے اس عمل کو اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو حج کرنے والوں کی مشابہت اختیار کر رہا ہے، کیوں کہ حاجی بھی احرام کی حالت میں بال اور ناخن نہیں کاٹتا۔ اس میں بندگی، عاجزی، اور قربانی کے تقدس کی جھلک نظر آتی ہے۔

لہٰذا، جو مسلمان پاکستان میں قربانی کا ارادہ رکھتے ہیں، اُنہیں چاہیے کہ وہ 28 مئی 2025 کی مغرب سے پہلے تک اگر بال یا ناخن کاٹنے کے محتاج ہیں تو کاٹ لیں، اور اس کے بعد قربانی کرنے تک ان سے اجتناب کریں۔ اس سنت پر عمل کرنے میں بڑی برکت ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ ہے۔

مزید پڑھیں :سگریٹ انڈسٹری اربوں کا ٹیکس چوری ،کلین چٹ دینےکی تیاریاں ، انکوائری کیلئے تین رکنی کمیٹی تشکیل

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: بال اور ناخن

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی