سولر پینلز کی تنصیب کےلیے قواعد وضوابط بنانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
پی ڈی ایم اے نے سولر پینلز کی تنصیب کےلیے قواعد وضوابط بنانے کا فیصلہ کرلیا۔
پرویشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے تمام اضلاع کو مراسلہ جاری کردیا، مراسلے میں ضلعی انتظامیہ سے سولرپینلز کی تنصیب کےلیے قواعد وضوابط جاری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق چھتوں اور کھلے ڈھانچوں پر لگے پینلز کی محفوظ تنصیب یقینی بنائی جائے، آئندہ صرف معیاری اور سرٹیفائیڈ سولر پینلز کی تنصیب کی اجازت دی جائے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے پینلز کی باقاعدہ انسپیکشن یقینی بنانے کا بھی حکم دیدیا۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ صوبے میں حالیہ آندھی اور طوفان سے70 فیصد حادثات کی وجہ سولر پینلز ہیں، غیرمعیاری پینلز آندھی میں پولز سے گرکر حادثات کا باعث بنے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پینلز کی تنصیب پی ڈی ایم اے سولر پینلز
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔