حریت کانفرنس اسلام آباد کے دفتر میں منعقدہ تقریب میں بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے موقف کو سراہا گیا اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورت حال اور مستقبل کے لائحہ عمل پر پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسلام تائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادجموں و کشمیر شاخ کے دفتر میں منعقدہ ایک تقریب کے مقررین نے تنازعہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے۔ ذرائع کے مطابق تقریب جس کی صدارت کنوینر غلام محمد صفی نے کی، بیرون ملک مقیم کشمیری رہنمائوں محمد غالب، مزمل ایوب ٹھاکر اور ظفر قریشی کے اعزاز میں منعقدہ کی گئی۔ تقریب میں بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے موقف کو سراہا گیا اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورت حال اور مستقبل کے لائحہ عمل پر پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بھارتی جارحیت کے خلاف افواجِ پاکستان کی کامیابی اور تاریخی کارکردگی پر پاکستانی حکومت، عوام اور بالخصوص افواجِ پاکستان کو دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ مسلہ کشمیر اس وقت ایک بار پھر عالمی سطح پر اجاگر ہوا ہے اور اس کو حل کرنے کے حوالے سے آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومتِ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن، منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اپنی سیاسی اور سفارتی کوششیں مزید موثر اور تیز کرے گی۔

اس موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی، کشمیری مسلمانوں کی شناخت مٹانے کی مذموم کوششوں، غیر ریاستی باشندوں کی آبادکاری، آزادی پسند کشمیری عوام کے گھروں کو بارود سے اڑانے، جائیدادوں کی غیر قانونی ضبطگی اور پہلگام واقعے کی آڑ میں ہزاروں کشمیری نوجوانوں کی بلاجواز گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں خوف و ہراس کا ماحول قائم کر کے شہری آزادیوں کو کچلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جو ناقابلِ قبول ہے۔ شرکاء نے اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور دنیا بھر کی آزادی پسند اقوام سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر دبائو ڈالیں تاکہ مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے اور کشمیری عوام اپنے سیاسی مستقبل کا خود فیصلہ کر سکیں۔

کشمیری قیادت نے خبردار کیا اگر مسئلہ کشمیر کے حل میں ماضی کی طرح غفلت یا مزید تاخیر کی گئی تو جنوبی ایشیا ایٹمی جنگ کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے جس کے عالمی امن پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ تقریب میں کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ پرویز احمد، سیکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ، سینئر حریت رہنما محمد فاروق رحمانی، میر طاہر مسعود، شمیم شال، محمد الطاف بٹ، حاجی محمد سلطان، شیخ یعقوب، نثار مرزا، شیخ عبدالمتین، راجہ خادم حسین، اعجاز رحمانی، جاوید اقبال، امتیاز وانی، زاہد صفی، زاہد اشرف، شیخ عبدالماجد، میاں مظفر، محمد شفیع ڈار، سید گلشن، عبدالمجید لون، عبدالمجید میر، خورشید میر، زاہد مجتبیٰ، منظور احمد ڈار، عدیل مشتاق، خالد شبیر، قاضی عمران، بلال احمد اور دیگر نے شرکت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اور کشمیری عوام مسئلہ کشمیر کے مطابق کیا گیا

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر