پتوکی پسند کی شادی کرنے والیB.S کی طالبہ نوجوان لڑکی پر اے ایس آئی کا مبینہ تشدد
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
پتوکی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 مئی2025ء) پتوکی پسند کی شادی کرنے والیB.Sکی طالبہ نوجوان لڑکی پر اے ایس آئی کا مبینہ تشدد ڈی پی او قصور نے اے ایس آئی کو تھانہ سٹی پتوکی حوالات میں بند کروادیا ڈی پی او قصور کا اے ایس آئی کیخلاف سخت دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم ۔
(جاری ہے)
ڈی پی او قصور محمد عیسی خان نے تھانہ سٹی پتوکی میں کھلی کچہری لگائی اور عوامی شکایات سنی مزید کھلی کچہری میں محلہ عباس پارک کی رہائشی علیشبہ بی بی نے ڈی پی او قصور کے سامنے پیش ہوکر ڈی پی او کو بتایا کہ میں نے کاشف سے پسند کی شادی کی تھی اور میرے والدین نے کاشف کیخلاف اغوا کامقدمہ درج کروارکھا تھا تھانہ سٹی پتوکی میں تعینات لیاقت اے ایس آئی نے مجھے اپنے کمرہ میں بند کرکے مبینہ تشدد کیا اور اور میرے جسم کے نازک اعضاء سے چھیڑ چھاڑ کی چارپائی پر لٹا کر الٹا سیدھا کرکے تشدد کرتا رہا ایجنسی رپورٹر نوید بھٹی کے مطابق ڈی پی او قصور نے لیاقت اے ایس آئی کے تفتیشی کمرہ کا موقع وزٹ کیا وزٹ کرنے کے بعد ڈی پی او قصور نے ڈی ایس پی سرکل پتوکی سجاد اکبر اور ایس ایچ او سٹی پتوکی کو حکم دیا کہ لیاقت اے ایس آئی کو فوری طور پرتھانہ میں بند کرکے سخت دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور کسی بھی قسم کی نرمی نہ برتی جائے تھانہ سٹی پتوکی کے محرر رانا زاہد نے لیاقت اے ایس آئی کوفوری طور پر گرفتار کرکے تھانہ کی حوالات میں بند کردیا اس موقع پر پی آر ساجد انصاری ٹو ڈی پی او قصوربھی موجود تھے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے لیاقت اے ایس ا ئی ڈی پی او قصور
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔