28 مئی کسی ایک سیاسی پارٹی کا دن نہیں: شیخ وقاص اکرم
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
شیخ وقاص اکرم—فائل فوٹو
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ 28 مئی کسی ایک سیاسی پارٹی کا دن نہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ 28 مئی 1998ء کو پاکستان عالمِ اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بنا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں پیغام گیا کہ پاکستان بحیثیت ملک اور پاکستانی بحیثیت قوم ناقابلِ تسخیر ہیں، یہ دن کسی ایک سیاسی پارٹی کا نہیں ہے۔
پی ٹی آئی کے ترجمان نے کہا کہ لوگوں نے انتہائی مشکل حالات میں پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، ہم بحیثیت پارٹی ان تمام ہیروز کو سلام پیش کرتے ہیں، ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہمارے قومی ہیرو تھے، ہیں اور رہیں گے۔
اُن کا مزید کہنا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی بچوں سے بات نہیں کرائی جاتی، بہنوں سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی، انہیں کتابیں نہیں پڑھنے دی جاتیں۔
شیخ وقاص اکرم نے یہ بھی کہا کہ پنجاب پولیس سیاسی قیادت کو بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرنے دیتی، ہم آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شیخ وقاص اکرم
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔