وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں پیدا ہونے والا گلابی نمک ملک کے قدرتی وسائل اور ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتا ہے۔

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے جاپان کے سرکاری دورہ کے دوران ایکسپو 2025 اوساکا کے موقع پر ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کیا، جس میں 43 سے زائد ملکی و غیر ملکی میڈیا اداروں نے شرکت کی۔

پریس کانفرنس دن بھر طویل مصروفیات کے بعد منعقد ہوئی جس میں جام کمال خان نے جاپان ایسوسی ایشن برائے 2025 ورلڈ ایکسپوزیشن کے نمائندگان سے ملاقات کی اور کئی قومی پویلینز کا دورہ بھی کیا۔ایکسپو میڈیا روم میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر نے عالمی تجارتی جدت، پائیداری اور ثقافتی سفارت کاری کے حوالے سے پاکستان کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے “Universe in a Grain of Salt” کے عنوان سے پاکستان پویلین کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا جو ملک کے قدرتی وسائل اور ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری کو اس منفرد پویلین کا مشاہدہ کرنے کی دعوت بھی دی۔

وفاقی وزیر نے جاپان ایسوسی ایشن کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی معاونت کے بغیر پاکستان پویلین کا خواب حقیقت میں تبدیل کرنا ممکن نہ تھا۔ یہ تعاون ہمارے وژن کو ایک زندہ تجربے میں تبدیل کرنے میں مددگار رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر سے آنے والے مہمانوں کا ردعمل بہت حوصلہ افزا رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی برآمدات میں ویلیو ایڈیشن کی وسیع گنجائش پر زور دیا اور کہا کہ خاص طور پر ٹیکسٹائل کے شعبے میں پاکستان کی برتری، چمڑے، سرجیکل آلات اور کھیلوں کا سامان تیار کرنے جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کا ذکر کیا۔

انہوں نے زرعی شعبے، خاص طور پر چاول کی برآمدات اور آئی سی ٹی کے شعبے میں پاکستان کے ہنرمند نوجوانوں کو عالمی منڈی کے لیے قیمتی اثاثہ قرار دیا۔قبل ازیں دن کا آغاز وزیر تجارت نے جاپان ایسوسی ایشن کے نمائندگان سے رسمی ملاقات سے کیا جس کے بعد پاکستان، جاپان، تاجکستان، فلسطین، برطانیہ، چین، یو اے ای، قطر، فرانس، امریکا، آذربائیجان، ترکی، اور سعودی عرب کے پویلینز کا دورہ کیا گیا۔

ان دوروں کے دوران ثقافتی تبادلے اور تجارت و پائیداری پر گفتگو کے مواقع پیدا ہوئے۔

وفاقی وزیر نے پاکستان پویلین کے منفرد ڈیزائن کو سراہا جس میں نمک سے بنی فرش، ہیلنگ گارڈن، فن پارے، اور انٹرایکٹو نمائشیں شامل ہیں۔ یہ ڈیزائن ایکسپو کے مرکزی تھیم “Designing Future Society for Our Lives” اور ذیلی تھیم “Saving Lives” سے ہم آہنگ ہے جو قدرتی عناصر جیسے کہ گلابی نمک کی شفائی اور پائیدار خصوصیات کو اجاگر کرتا ہے۔

جام کمال خان نے کہا کہ گلابی نمک صرف ایک پراڈکٹ ہی نہیں بلکہ ایک تجربہ اور ہمارے قدرتی وسائل کی نمائندگی ہے، ہم اس کی عالمی سطح پر موجودگی کو بڑھانے کے لیے اختراع اور پائیدار استعمالات پر کام کر رہے ہیں۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر وزیر تجارت نے جاپان ایسوسی ایشن کے اراکین اور عالمی مہمانوں کو دعوت دی کہ وہ 14 اگست 2025 کو پاکستان کے یوم آزادی کی تقریبات اور آئندہ منعقد ہونے والی فوڈ ٹیسٹنگ اور تجارتی نمائشوں میں شرکت کریں۔

انہوں نے زور د ے کر کہا کہ یہ ایکسپو صرف اقوام کی نمائش نہیں بلکہ خیالات، ثقافتوں اور مستقبل کے حوالے سے مکالمے کا ذریعہ ہے۔ پاکستان اس مکالمے میں بھرپور شرکت اور تعاون کے لیے تیار ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے جاپان ایسوسی ایشن جام کمال خان نے پریس کانفرنس قدرتی وسائل وفاقی وزیر گلابی نمک انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد