بھارتی وزیراعظم کا اشتعال انگیز بیان قابل افسوس، غیرمتوقع نہیں: دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
—فائل فوٹو
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا اشتعال انگیز بیان قابل افسوس ہے، یہ غیرمتوقع نہیں ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری یے گئے بیان میں کہا کہ بھارتی وزیراعظم کی پانی جیسے معاہداتی وسائل کو ہتھیار بنانے کی دھمکی عالمی اصولوں سے انحراف ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان تھا کہ ایسی قیادت جو عالمی احترام چاہتی ہو، پہلے اپنی زبان اور ضمیر کا جائزہ لے، موجودہ بھارتی حکومت کے نظریاتی حامی نفرت انگیزی اور اقلیتوں کے خلاف تشدد کو معمول بنا چکے ہیں۔
وزارت خارجہ نے مودی کے گجرات میں دیے گئے بیان کو انتخابی مہم کا تھیٹر قرار دے دیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت خود کو مظلوم ظاہر کرنے کے بجائے بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے، انتخابی مہم کے دوران جنگجو بیانات امن اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارتی نوجوان نفرت کی سیاست کو رد کریں اور باوقار، باہمی تعاون پر مبنی مستقبل کی طرف بڑھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بھارتی وزیراعظم دفتر خارجہ
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن