وزارت خارجہ نے بھارتی وزیر اعظم کے حالیہ ریمارکس پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے اگرچہ مکمل طور پر غیر متوقع بھی نہیں کہ بھارتی وزیر اعظم نے ایک مرتبہ پھر تاریخی نظر ثانی کے جاری منصوبہ کو ایک جانب رکھ دیا ہے تاکہ اقلیتوں کے اندرونی جبر کو ایک اور اشتعال انگیز یکجہتی دی جا سکے۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے پانی کو ہتھیار بنانے کے حوالہ سے ان کے بیانات ایک مشترکہ معاہدہ کی پابند ی، بین الاقوامی اصولوں سے قابل افسوس انحراف ہیں اور خطے میں بھارت کا طرز عمل عالمی عزائم سے واضح تضاد کی عکاسی کرتا ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی احترام کی پیروی کرنے والی حقیقی قیادت پہلے اپنے اندر جھانکتی ہے اور دوسروں کو دھمکیاں دینے سے قبل اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش کر تی ہے۔

دفتر خارجہ نے مزید کہا ہے کہ بھارتی حکومت کا تعلق ماورائے عدالت قتل اور غیر ملکی بغاوت سے منسلک ہے،بھارت غیر ملکی عوام اور علاقوں پر قابض ہے، غیر قانونی طور بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کا ریکارڈ ہمیشہ سے ہی منظم جبر پی مبنی ہے، ستم ظریفی ہے کہ ایک ایسی ریاست اب مظلومیت کی چادر اوڑھنے کی کوشش کررہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت کی موجودہ حکومت کے نظریاتی کارکنوں نے گروہی تشدد کو معمول بنارکھا ہے، نفرت انگیز مہمات کو فروغ دیا ہے اور ہمیشہ ہی مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنایا ہے۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس طرح کی کارروائیاں کسی ملک کی اندرونی سیاست کو تو فروغ دے سکتی ہیں لیکن بین الاقوامی صورتحال کا مقابلہ نہیں کر سکتیں اور نہ ہی عالمی برادری ایک ذمہ دار علاقائی طاقت کے طور پر بھارت پر اعتماد کر سکتی ہے۔

پاکستان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی نظام کے بنیادی اصولوں کی طرف واپس آئے جس میں دوسروں کے خود مختار حقوق اور معاہد ہ کی ذمہ داریوں کے احترام کے ساتھ ساتھ زبان اور عمل دونوں میں تحمل شامل ہیں۔

انتخابی مہم پر تالیاں بجا ئی جا سکتی ہیں لیکن یہ طویل مدتی امن اور استحکام کو نقصان پہنچاتی ہے۔ بھارتی کے نوجوان جو اکثر انتہا پسند قوم پرستی کا پہلا شکار ہوتے ہیں ان کو چاہئے کہ خوف کی سیاست کو مسترد کردیں اور اس کی بجائے بھارتی نوجوان طبقہ کیلئے بہتر ہو گا کہ وقار اور علاقائی تعاون پر مبنی مستقبل کیلئے کام کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارتی وزیر اعظم بین الاقوامی دفتر خارجہ

پڑھیں:

پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا

پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا۔

ویسٹ انڈیز کی قیادت روسٹن چیز کریں گے جبکہ جومیل واریکن کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

اسکواڈ میں جوشوا بیشپ، تیج نارائن چندرپال، جوشوا ڈی سلوا، جسٹن گریوز، کیوم بوج، شے ہوپ، عامر جینگو، شیمار جوزف، برینڈن کنگ، کرک میک کینزی، گڈاکیش موتی، کیمو پال، کیمار روچ، جیڈن سیلز اور جومیل واریکن شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آغاز 25 جولائی سے ہوگا۔

        View this post on Instagram                      

قومی ٹیم نے آخری مرتبہ 2023 میں سری لنکا کو اس کی سرزمین پر 2-0 سے ٹیسٹ سیریز میں شکست دی تھی، تاہم اس کے بعد پاکستان مسلسل سات بیرونِ ملک ٹیسٹ میچ ہار چکا ہے۔

اس سیریز میں پاکستان کی قیادت دوبارہ بابر اعظم کر رہے ہیں جنہیں شان مسعود کی جگہ ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا