Express News:
2026-07-24@06:30:47 GMT

ناسمجھ میں آنے والی سیاست

اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT

پاک فوج نے چار روز میں بھارتی جارحیت کا وہ منہ توڑ جواب دیا کہ جس سے بھارت میں قیامت برپا ہے اور دنیا بھر میں پاک فوج کی کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے اور ملک کی ہر جماعت بھی پاک فوج کی تعریفیں کر رہی ہے۔ اس موقعے پر بھی پی ٹی آئی کی سیاست تقسیم نظر آرہی ہے اور بعض جگہوں پر دکھاؤے کے لیے پاک فوج کے حق میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں تو پی ٹی آئی کے ذمے داروں کے منہ بند ہیں اور آرمی چیف کی قیادت میں لڑی جانے والی اس جنگ میں آرمی چیف، نیوی چیف اور ایئرچیف کی شاندار کارکردگی کی تعریف میں ایک لفظ بھی نہیں نکل رہا اور وہ گونگے بنے ہوئے ہیں۔

 ملک بھر میں تینوں افواج کے سربراہوں کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے تو کے پی حکومت کے ترجمان نے اس موقع پر بھی نواز شریف فیملی پر تنقید کرنا ضروری سمجھا ہے ۔ موصوف فرماتے ہیں کہ ملک کے حقیقی لیڈر نے قید میں ہوتے ہوئے مودی کو للکارا جب کہ نواز شریف نے آزاد ہو کر بھی مودی اور بھارت کے خلاف ایک لفظ نہیں بولا اور مودی سے اپنی یاری کا پاس رکھا اور خاموش رہے اور بعد میں نواز شریف اور مریم نواز ایسے نمودار ہوئے جیسے بھارت انھوں نے فتح کیا ہو۔

بہرحال ہر ایک کی اپنی اپنی رائے ہے، عوام خود ہی فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کس کی رائے درست ہے اور کون زبانی جمع خرچ کی آڑ میں بھی بھارت پر تنقید نہیں کررہا ۔ شاید کسی نے خواب میں بانی پی ٹی آئی کی مودی کو دی جانے والی للکار سنی ہو حالانکہ وزیر اعلیٰ کے پی تو پاک بھارت جنگ کی وجہ سے یہ مطالبہ کررہے تھے کہ بانی پی ٹی آئی کو پے رول پر رہا کیا جائے کیونکہ اڈیالہ جیل پر بھارتی بمباری کا خطرہ ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعلیٰ کے پی کی درخواست یہ اعتراض لگا کر واپس کردی کہ اس معاملے میں وزیر اعلیٰ کے پی فریق نہیں ہیں۔ پے رول پر رہائی کی درخواست متاثرہ شخص کی جانب سے خود دائر ہی نہیں کی گئی۔

 مودی وہ لیڈر ہے جس کی دوسری کامیابی کے لیے بانی پی ٹی آئی خواہش مند تھے ۔ پی ٹی آئی کی منفی اور قوم کو تقسیم رکھنے کی والی سیاست سمجھ سے بالا تر ہے جب کہ پی ٹی آئی خود کو ملک بھر کی سیاسی جماعتوں میں سب سے بڑی سیاسی جماعت سمجھتی ہے اور اپنے سزا یافتہ بانی کو ملک میں سب سے مقبول اور حقیقی لیڈرکہتے ہیں جس کو صرف اپنی رہائی کی فکر ہے اور اس نے جیل سے پاک فوج کی شان دار فتح کو سراہا اور نہ ہی تینوں افواج کی قیادت کرنے والے سربراہوں کی تعریف کی نہ کسی کو کامیابی کا کریڈٹ دیا جب کہ ملک بھر میں آرمی چیف سمیت نیوی اور فضائیہ کے سربراہ بلکہ بھارت پر حملہ کرنے والے دو قومی ہیروز کی بھی تعریف نہیں کی جب کہ سیلانی ویلفیئر انٹر نیشنل ٹرسٹ کے بانی مولانا بشیر فاروقی نے فضائیہ کے دو شاہینوں کی بہترین کارکردگی پر پچیس پچیس لاکھ روپے نقد دینے کا اعلان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس انعامی رقم کا سیلانی کے چندے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ رقم سیلانی کے بورڈ ممبران نے ذاتی طور پر دی ہے۔ سیلانی ٹرسٹ ملک کا واحد فلاحی ادارہ ہے جو عوامی عطیات سے بے شمار فلاحی و امدادی کام کر رہا ہے ۔

پی ٹی آئی کو بھی اپنی ناسمجھ میں آنے والی سیاست سے نکل کر سیاسی اختلاف کے باوجود آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو اس شان دار کامیابی کا کریڈٹ دینا چاہیے جس طرح وہ اپنے بانی کو 1992 کے ورلڈ کپ کا دیتی ہے جس میں کیپٹن سمیت سب کھلاڑیوں کی محنت شامل تھی، مگر بدقسمتی سے بانی اور پی ٹی آئی اپنے سیاسی مفاد اور بانی کی انا کے چکر میں فوج کی شان دار کامیابی کو اس طرح تسلیم نہیں کر رہی جس طرح دوسرے سیاسی رہنما اور پارٹیاں اور عوام کر رہے ہیں کیونکہ یہ شان دار کامیابی صرف فوجی قیادت کی صلاحیت سے ممکن ہوئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی آرمی چیف پاک فوج ہے اور فوج کی

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف