محمد یونس اورفوج میں اختلافات کی تردید
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
ڈھاکا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 مئی2025ء)بنگلادیش کی حکومت نے چیف ایڈوائزر محمد یونس اور فوج کے درمیان اختلافات کی خبروں کی تردید کی ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق بنگلادیشی عبوری حکومت کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے بھارتی میڈیا مستقل غلط اور گمراہ کن خبریں پھیلا رہا ہے۔
(جاری ہے)
عبوری حکومت کے مطابق بھارتی میڈیا پر جعلی خبریں کسی مستند ثبوت یا تصدیق کے بغیر نامعلوم ذرائع سے چلائی جا رہی ہیں۔ دریں اثنا بھارتی میڈیا کا کہنا تھا کہ بنگلادیشی آرمی چیف جنرل وقارالزماں چیف ایڈوائزر محمد یونس کو عہدے سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق آرمی چیف بنگلہ دیش میں ایمرجنسی لگوا کر عبوری حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بھارتی میڈیا
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔