وفاقی سیکریٹری مذہبی امور کا مکہ مکرمہ کا دورہ، حج 2025 کے انتظامات کا جائزہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
وفاقی وزارت مذہبی امور اسلام آباد کے سیکریٹری ڈاکٹر عطاالرحمان مکہ مکرمہ پہنچ گئے، جہاں انہوں نے حج 2025 کے سلسلے میں پاکستانی عازمینِ حج کے لیے کیے گئے انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس اعلیٰ سطحی دورے کا مقصد عازمین کے لیے سہولیات کو یقینی بنانا اور حج کے دوران ان کے آرام و اطمینان کو ممکن بنانا تھا۔
یہ بھی پڑھیں وفاقی وزیر مذہبی امور کی مدینہ منورہ آمد، پوسٹ حج انتظامات کا جائزہ لیا
وفاقی سیکریٹری کے ہمراہ چیف کوآرڈینیٹر مکہ ڈاکٹر مرزا علی محسود، کوآرڈینیٹر ایف اینڈ سی سجاد حیدر یلدرم، کوآرڈینیٹر مکہ ذوالفقار خان اور ڈائریکٹر مکہ عزیزاللہ خان بھی موجود تھے۔
وفد نے عرفات اور منیٰ کے کیمپس کا تفصیلی دورہ کیا جہاں پاکستانی عازمین کو ٹھہرایا جائے گا۔ اس موقع پر رہائش، صفائی، خوراک کی تقسیم اور طبی سہولیات سمیت تمام بنیادی انتظامات کا بغور جائزہ لیا گیا تاکہ تمام سہولیات اعلیٰ معیار کی ہوں اور سعودی حکام کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے تحت فراہم کی جائیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری نے کہاکہ حکومت پاکستان عازمین حج کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، اور اس مقصد کے لیے مانیٹرنگ اور فوری رابطے کا نظام فعال رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں حج انتظامات مکمل، 66 ہزار سے زیادہ عازمین سعودیہ پہنچ گئے: ترجمان مذہبی امور
یہ دورہ وزارت مذہبی امور کی جانب سے حج انتظامات میں سنجیدگی اور عازمین کی خدمت کے جذبے کا عملی مظاہرہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سہولیات کا جائزہ عازمین حج عطاالرحمان مکہ مکرمہ وفاقی سیکریٹری مذہبی امور وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سہولیات کا جائزہ مکہ مکرمہ وفاقی سیکریٹری مذہبی امور وی نیوز وفاقی سیکریٹری انتظامات کا کا جائزہ کے لیے
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں