پاکستانی شاہینوں کے ہاتھو ں رافیل طیاروںکی تباہی، فرانسیسی فوج کا ردعمل بھی سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
پیرس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 مئی2025ء) پاک بھار ت حالی جنگ میں فرانس کے جدید لڑاکا رافیل طیاروں کی تباہی پر فرانسیسی فوج کے ترجمان کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فرانسیسی مسلح افواج کے ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر واقعی رافیل طیارے مار گرائے گئے ہیں تو یہ اس طیارے کی 20 سالہ سروس کے دوران پہلی بار کسی جنگی مشن میں نقصان ہوگا۔
یہ اس معاملے پر فرانسیسی فوج کی طرف سے پہلا باضابطہ ردعمل بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ رافیل کی کارکردگی کے حوالے سے فرانس صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور بھارت کے ساتھ براہ راست معلومات کے تبادلے کی کوشش میں ہے۔ترجمان فرانسیسی فوج نے کہا کہ کچھ رپورٹس کے مطابق اس تصادم میں سیکڑوں فوجی طیارے شامل تھے، اگر رافیل کے مار گرائے جانے کی رپورٹس درست ہیں، تو یہ واقعی اس کے دو دہائیوں پر محیط آپریشنل کیریئر میں پہلا نقصان ہوگا۔(جاری ہے)
یاد رہے کہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارت نے پاکستان میں دراندازی کرتے ہوئے آزاد کشمیر، پنجاب میں مختلف مقامات پر بمباری کی تھی، تاہم پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن کے 5 جنگی طیارے تباہ کر دیے تھے، جن میں 3 فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے بھی شامل تھے۔عالمی سطح پر بھی بھارتی طیارے تباہ ہونے کی تصدیق کی گئی ہے تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ جب فرانس کی فوج کے ترجمان نے رافیل طیاروں کی تباہی کے حوالے سے اپنا ردعمل دیا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے فرانسیسی فوج
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔