قربانی کی کھالیں: سندھ میں ضابطہ اخلاق جاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
حکومت سندھ نے عیدالاضحیٰ پر قربانی کی کھالیں جمع کرنے کا ضابطہ اخلاق جاری کردیا۔
کھالیں جمع کرنے کے لیے متعلقہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی اجازت لینے ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اس مرتبہ قربانی کے جانوروں کے ریٹ کیا ہوں گے؟
کمشنر اور ڈی سی رجسٹرڈ فلاحی اداروں،مدارس اور خیراتی اداروں کو اجازت نامہ دیں گے، کالعدم تنظیم کو کھالیں جمع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ضابطہ اخلاق کے مطابق کھالیں جمع کرنے کیلیے کیمپ اور بینر لگانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ عمارتوں پر جھنڈے اور لاؤ ڈ اسپیکرکے ذریعے اعلانات کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔
انتظامیہ کی جانب سے جاری اجازت نامہ کھالیں جمع کرانے کے دوران ساتھ رکھنا لازم ہوگا، اسلحہ رکھنے سے متعلق تمام اجازت نامے 10 سے 12ذی الحج تک معطل کردیے گئے ہیں۔
ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف متعلقہ ایس ایچ او کو کارروائی کا اختیار ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سندھ ضابطہ اخلاق قربانی کی کھالیں کمشنر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ضابطہ اخلاق قربانی کی کھالیں کھالیں جمع کرنے ضابطہ اخلاق
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔