یوم تکبیر جوش و جذبے سے منایا گیا، ریلیاں، نوازشریف سمیت سیاسی رہنماؤں کی مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
لاہور؍ اسلام آباد (خصوصی نامہ نگاران+ نوائے وقت رپورٹ) سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت دیگر سیاسی شخصیات نے یوم تکبیر کے موقع پر قوم کو مبارکباد دی ہے۔ ’’ایکس‘‘ پر نواز شریف نے یوم تکبیر پر قوم کو مبارکباد دی۔گورنر خیبر پی کے فیصل کریم کنڈی نے کہا آج کے دن پاکستان پہلی اسلامی ایٹمی طاقت کے طور پر دنیا میں سامنے آیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ آج 28 مئی کا دن قومی خودمختاری، سائنسی ترقی اور استقامت کی یاد دلاتا ہے۔ پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ الحمدللہ پاکستان کو ایٹمی ملک بنے 27 سال مکمل ہو گئے۔ حمزہ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یوم تکبیر پاکستان کے عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت کے طور پر ابھرنے کا سنہرا دن ہے۔ ہمارے ایٹمی قوت حاصل کرنے سے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہو گیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 28 مئی یوم تکبیر پاکستان کا فخریہ دن ہے۔ ملک کو ایٹمی قوت بنانے پر محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا یوم تکبیر ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے والوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ہم اپنی خودمختاری، وقار اور مستقبل کے تحفظ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ بلاول بھٹو نے 28 مئی یوم تکبیر کے موقع پر سائنسدانوں، انجینئرز، مسلح افواج اور سیاسی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا یوم تکبیر وطن عزیز کی تاریخ کا سنہرا اور یادگار دن ہے۔ عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت کا اعزاز پاکستان کو حاصل ہے۔ جبکہ وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی ہمارا اولین اور آخری مقصد ہے۔ ہم امن کے داعی ہیں، جنگ کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہیں۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ ملک کا دفاع ناقابل تسخیر ہے۔ دشمن کی ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ علامہ زبیر احمد ظہیر نے سیمینار سے خطاب میں کہا ہے کہ ملک کو ایٹمی پاور بنانے والے مخلص اور نڈر قائدین کو قوم کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ وہ ہمارے اور آئندہ نسلوں کے حقیقی محسن اور فخر ہیں ۔ جبکہ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے امیر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے کہا ہے کہ یوم تکبیر پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے اور بھارتی غرور خاک میں ملانے کے عزم کے اظہار کا دن ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ 28 مئی پاکستان کی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش دن ہے۔ دوسری جانب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کی اپیل پر لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ساہیوال، سیالکوٹ، اوکاڑہ، شیخوپورہ، قصور، شور کوٹ، نارووال میں ’’یوم تکبیر و یوم ڈاکٹر عبد القدیر خان‘‘ منایا گیا، جس میں جماعت اسلامی کی ہر سطح کی قیادت، ارکان جماعت وکارکنان، برادر تنظیموں کے علاوہ عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
لاہور (نمائندگان) یوم تکبیر پر سیاسی و سماجی جماعتوں نے ملک بھر میں ریلیاں نکالیں اور مظاہرے کئے۔ مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام سو سے زائد شہروں میں تکبیر کانفرنسز کا انعقاد ہوا۔ تکبیر کانفرنسز، ریلیوں کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ ایٹمی پاکستان آج فاتح پاکستان کے طور پر دنیا کے سامنے ڈنکے کی چوٹ پر کھڑا ہے۔ دشمنوں کی سازشوں کا جواب دینے کے لئے پاکستانی قوم متحد و بیدار ہے۔ میزائلوں سے نہ ڈرنے والی قوم کو مودی گولی سے نہیں ڈرا سکتا۔ ایمان کے جذبے سے دشمن کو ہر بار شکست دیں گے۔ پاکستانی قوم حافظ محمد سعید کی رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔ پاکستان کے دفاع پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو، قاری محمد یعقوب شیخ، حافظ خالد نیک، حافظ محمد مسعود، ذوالفقار علی اولکھ، انجینئر حارث ڈار، فیصل ندیم، چوہدری محمد سرور، عارف اللہ خٹک، حمید الحسن، شیخ فیاض احمد، اجمل چانڈیہ، احسان اللہ منصور، محمد راشد، مزمل اقبال ہاشمی، رانا محمد اشفاق، ابو احمد محبوب الرحمان، حبیب الرحمان، ثاقب مجید، دیگر رہنماؤں نے ریلیوں سے خطاب کیا۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق ضلعی انتظامیہ کے زیراہتمام ڈپٹی کمشنر نوید احمد کی زیر قیادت تقریب ہوئی۔ ڈپٹی کمشنر آفس سے ریلی سیالکوٹ روڈ تک نکالی گئی۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) فیصل سلطان، اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) اقراء مبین گوندل، ڈی او ایمرجنسی میاں رفعت ضیاء، ڈی او سول ڈیفنس محمد طاہر، ممبران ضلعی امن کمیٹی مولانا یوسف کھوکھر، پروفیسر شہزاد لارنس، پادری ہارون، پادری عامر، میونسپل کارپوریشن، ضلع کونسل، کالجز، ریسکیو 1122، ایجوکیشن، جی ڈبلیو ایم سی، سول ڈیفنس، واسا، جی ڈی اے، ایکسائز، سوشل ویلفیئر، پاپولیشن ویلفئیر کے افسران، ملازمین کے علاوہ مختلف مکاتب فکر کے افراد اور شہریوں نے بھر پور شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے قومی پرچم، پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے اور سائنس دانوں اور پاک فوج پر فخر کا اظہار کیا۔ ڈپٹی کمشنر نوید احمد نے یوم تکبیر کے موقع پر قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 28 مئی 1998ء کا دن ہماری قومی تاریخ میں ایک عظیم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس روز پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے دنیا پر ثابت کر دیا کہ ہم اپنے دفاع سے غافل نہیں اور اپنی خود مختاری کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے۔ ڈپٹی کمشنر نوید احمد نے کہا کہ یومِ تکبیر محض ایک دن کی یادگار نہیں بلکہ یہ ہماری قومی غیرت، سائنسی قابلیت اور اتحاد کا مظہر ہے۔ یہ دن ہمیں اس عہد کی یاد دلاتا ہے کہ وطنِ عزیز کے دفاع، سلامتی اور ترقی کے لیے ہم سب کو اپنی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی ہدایت پر ضلع بھر میں یوم تکبیر ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ قومی قیادت جس میں سیاسی، ملٹری اور سول سمیت ہمارے سائنسدان بالخصوص محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پوری کا سلام جنہوں نے وطن عزیز کو ناقابل تسخیر ایٹمی قوت بنایا اور دشمن کے عزائم کو خاک میں ملایا۔ اس موقع پر تمام تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر محکمہ جات میں مختلف تقریبات، سیمینارز اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا جن میں طلباء، اساتذہ، سرکاری افسران اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ حافظ آباد میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے یوم تکبیر کی مرکزی تقریب ڈسٹرکٹ کمپلیکس میں ہوئی۔ ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق نے پرچم کشائی کی ۔ مسلم لیگ ن کے رہنماء چودھری تہور حسین تارڑ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل اینڈ فنانس حامد ناصرگورائیہ، اسسٹنٹ کمشنر سلمان اکبر، سی ای او ایجو کیشن محمد اکرم اشرف اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔ ننکانہ صاحب میں مرکزی تقریب ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل شاہد کھوکھر، اسسٹنٹ کمشنر عطیہ عنایت، سی او ایجوکیشن شازیہ بانو، ضلعی افسران، طلباء، اساتذہ، تاجر برادری، مسیحی و سکھ نمائندوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔شیخوپورہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق تحریک انصاف نظریاتی کے چیئرمین اختر اقبال ڈار نے کہا ہے کہ 28مئی کا دن یوم تکبیر نہ صرف ہماری دفاعی خود مختاری کی علامت ہے بلکہ یہ دن ان عظیم رہنمائوں اور سائنسدانوں کی قربانیوں کو یاد کرنے اور خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے جنہوں نے قوم اور ملک کے لیے اپنے آج کو قربان کرکے ہمارا کل محفوظ بنایا۔ شیخوپورہ سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ضلعی صدر عارف خان سندھیلہ نے کہا ہے نوازشریف نے 28مئی1998ء کو ایٹمی دھماکے کرکے دنیا پر ثابت کیا کہ ہمیں دبایا و جھکایا نہیں جا سکتا۔ جوہری پروگرام کو پروان چڑھانے اور اس کے عملی اظہار و فروغ کیلئے کردار ادا کرنے والا ہر فرد قومی ہیرو ہے۔مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا ہے کہ یوم تکبیر اتحاد اور خود مختاری قومی سلامتی کے تحفظ کے عہد کا دن ہے۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت امن کی ضامن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نے کہا ہے کہ ڈپٹی کمشنر پاکستان کے پاکستان کی ایٹمی قوت یوم تکبیر نے کہا کہ مسلم لیگ کو ایٹمی کا دن ہے شرکت کی کہ یوم قوم کو
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔