لاہور؛ مبینہ پولیس مقابلے کے دوران خاتون کیساتھ زیادتی میں ملوث 3ڈاکو ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
لاہور:
چوہنگ کے علاقے میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) اور ڈاکوؤں کے درمیان مبینہ پولیس مقابلے میں تین ڈاکو ہلاک جبکہ دو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
ڈی ایس پی سی سی ڈی کے مطابق، دو موٹر سائیکلوں پر سوار پانچ مشتبہ ڈاکو چوہنگ سے ملتان روڈ کی جانب جا رہے تھے، جنہیں سی سی ڈی اہلکاروں نے مشکوک جان کر رکنے کا اشارہ کیا تاہم ملزمان نے رکنے کے بجائے پولیس پر فائرنگ کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی کارروائی کی۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران تین ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے جبکہ دو فرار ہو گئے، ہلاک ڈاکوؤں کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔
ابتدائی تفتیش کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ ہلاک ہونے والے ڈاکو ایک واردات کے دوران خاتون سے زیادتی میں بھی ملوث تھے۔ پولیس کو جائے وقوعہ سے اسلحہ اور دیگر مشکوک سامان بھی ملا ہے۔
فرار ڈاکوؤں کی تلاش اور ہلاک ملزمان کی شناخت کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے دوران
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔