سی ای او آئیسکو محمد نعیم جان نے فیڈرز، ٹرانسفارمرز اور صارفین کی انفرادی شکایات کے ازالے میں تاخیر کا نوٹس لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
سی ای او آئیسکو محمد نعیم جان نے فیڈرز، ٹرانسفارمرز اور صارفین کی انفرادی شکایات کے ازالے میں تاخیر کا نوٹس لے لیا WhatsAppFacebookTwitter 0 30 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)چیف ایگزیکٹو آفیسرآئیسکو محمد نعیم جان نے فیڈرز، ٹرانسفارمرز اور صارفین کی انفرادی شکایات کے ازالے میں تاخیر اور کمپلینٹ دفاتر کے نمبرز غیر ضروری مصروف رکھنے اور صارفین کی کالز اٹینڈ نہ کرنے کا نوٹس لے لیا۔
آئیسکو چیف کا کہنا تھا کہ معزز صارفین کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی اور انکی شکایات کی بروقت کلیرنس ہماری اولین پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں کوتاہی کا مظاہرہ کرنے والے افسران وسٹاف کو ادارے میں ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا اور یہ اقدامات نہ صرف متعلقہ دفتر کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں بلکہ آئیسکو کی کسٹمر فرینڈلی دعوے کی نفی بھی کر رہے ہیں۔
محمد نعیم جان نے صارفین سے درخواست کی کہ اگر آئیسکو کے کسی بھی دفتر میں ان کی شنوائی نہ ہو تو وہ مرکزی کمپلینٹ اینڈ مانیٹرنگ سیل کے نمبرز051-9252933,051-9252934 پر کال کریں اور ادارے میں موجود کالی بھیڑوں کی نشاندہی کریں تاکہ ان کے خلاف سخت سے سخت محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے چیف انجینئر آپریشن محمد کاشف شاہ کو ہدایات جاری کیں کہ وہ عام دنوں میں اور خصوصی طور پر بارش اور خراب موسم کے دوران فیڈرز، ٹرانسفارمرز اور انفرادی شکایات اور انکی کلیرنس کے دورائینے کی مانیٹرنگ کریں تا کے ان افسران و سٹاف کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے جن کی سستی اور نا اہلی ادارے کی نیک نامی کو خراب کرنے کا باعث بن رہی ہے کیوں آئیسکو کا مطمین صارف آئیسکو کی پہچان ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپارلیمنٹ میں جعلی بھرتیاں کرنے والا ملازم بے نقاب ، معطل ، اسپیکر نے معاملہ ایف آئی اے کو بھجوا دیا، جعلی لیٹر سمیت دستاویز سب نیوز پر پارلیمنٹ میں جعلی بھرتیاں کرنے والا ملازم بے نقاب ، معطل ، اسپیکر نے معاملہ ایف آئی اے کو بھجوا دیا، جعلی لیٹر سمیت... حکومت نے عیدالاضحی کی تعطیلات کا اعلان کردیا، کتنی چھٹیاں ہوں گی، تفصیلات سب نیوز پر یکم جون سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی ردوبدل کا امکان ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 0.81فیصد کمی ریکارڈ،گزشتہ ہفتے 14اشیا مہنگی ہوئیں، ادارہ شماریات اسلام آباد پولیس نے جماعت اسلامی کے رہنما مشتاق احمد کو حراست میں لے لیا ڈیجیٹل کرنسی ریگولیٹ اور ضوابط طے کرنے کیلئے پاکستان کرپٹو کونسل کا اجلاس طلب
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ٹرانسفارمرز اور انفرادی شکایات اور صارفین کی سب نیوز لے لیا
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔