نئے مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری کیلئے سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس 2 جون کو طلب کرلیا گیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق آئندہ سال ترقیاتی منصوبوں پر ایک ہزار ارب روپے خرچ کرنے کی تجویز، سڑکوں کی تعمیر کیلئے 170 ارب، پانی کے منصوبوں کیلئے 140 ارب، پاور ڈویژن کیلئے 105 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، مالی گنجائش نہ ہونے کے باعث اعلیٰ تعلیم کے ترقیاتی بجٹ میں کمی کا امکان ہے، اگلے سال 50 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ رواں مالی سال قومی اقتصادی سروے 9 جون کو جبکہ پارلیمنٹ میں نئے مالی سال بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا۔ آئندہ مالی سال ترقیاتی منصوبوں پر ایک ہزار ارب روپے خرچ کرنے کا پلان ہے، این ایچ اے کیلئے 170 ارب، آبی وسائل کیلئے 140 رکھنے کی تجویز ہے جبکہ آئندہ مالی سال سڑکوں کی تعمیر کیلئے 9 ارب سے زائد اضافی خرچ کرنے کا پلان ہے۔
نئے مالی سال کے بجٹ میں پاور ڈویژن کیلئے 105 ارب رکھے جانے کا امکان، نئے بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کے منصوبوں پر 50 ارب روپے خرچ کرنے کی تجویز ہے اور مالی مشکلات کے باعث ایچ ای سی کے بجٹ میں 11 ارب کمی کا خدشہ ہے، نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 4 ارب رکھنے کی تجویز ہے۔
انفارمیشن اور صنعت و پیداوار کیلئے تین، تین ارب رکھنے کا امکان ہے، میری ٹائم کیلئے 3.

5 ارب روپے، بین الصوبائی رابطے کیلئے 1.5 ارب رکھنے کا پلان ہے۔
حکام وزارت خزانہ کے کے مطابق مجوزہ وفاقی ترقیاتی پلان کی منظوری اے پی سی سی سے لی جائے گی، سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس 2 جون بروز بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس 6 جون کو بلانے کی تجویز ہے۔
رپورٹ کے مطابق قومی اقتصادی کونسل میکرو اکنامک اہداف اور ترقیاتی پلان کی منظوری دے گی، مختلف وزارتوں نے مجوزہ ترقیاتی پروگرام پر تحفظات کا اظہار کر دیا، رواں مالی سال 2024-25 کا قومی اقتصادی سروے 9 جون کو جاری کیا جائے گا جبکہ نئے مالی سال کا بجٹ 10 جون کو پارلیمنٹ میں پیش ہوگا۔

Post Views: 5

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ترقیاتی منصوبوں کرنے کی تجویز روپے خرچ کرنے نئے مالی سال کی تجویز ہے ارب روپے جون کو

پڑھیں:

غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی

اسلام آباد:

سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔

سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔

کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔

کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔

سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔

اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
  • عالمی و مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
  • سوناہزاروں روپے سستا، ایک دن کی بڑی کمی نے مارکیٹ ہلا دی
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی