سوراب میں دہشت گردوں کا حملہ، ایڈیشل ڈپٹی کمشنر ہدایت بلیدی شہید
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
بلوچستان کے ضلع سوراب میں فتنتہ الہندوستان کے مسلح دہشت گردوں نے بینک اور سرکاری افسر کے گھر پر حملہ کردیا، حملے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) ریونیو ہدایت اللّٰہ بلیدی شہید ہوگئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔
دہشت گردی کے معاملے پر ہم بھارت کو ٹکاکر جواب دیں گے، شیری رحمانوزیراعظم شہبازشریف کی سفارتی کمیٹی کی رکن اور پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے معاملے پر ہم بھارت کو ٹکا کر جواب دیں گے۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کے مطابق دہشت گردوں نے جمعے کی شام سوراب بازار میں بینک لوٹ لیا جبکہ مختلف سرکاری افسران کے گھر نذر آتش کردیے، حملے کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ہدایت اللّٰہ بلیدی دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلے کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وطن کے اس سپاہی نے جان کا نذرانہ دے کر بہادری کی نئی مثال قائم کی ہے، اے ڈی سی کی رہائش گاہ پر اس وقت خواتین او بچے بھی موجود تھے۔
ترجمان بلوچستان حکومت نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردوں نے سوراب میں حملہ کرکے ریاستی رٹ چیلنج کرنے کی کوشش کی، علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
شاہد رند کا کہنا تھا کہ ایف سی، پولیس اور لیویز فورسز موقع پر پہنچ چکی ہیں اور کلیئرنس آپریشن بھی جاری ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ اس پوری کارروائی میں ہندوستان کی پراکسیز ملوث ہیں، جنہوں نے اپنے آقاؤں کی ایماء پر یہ حملہ کیا، ہم نے ریاست دشمن عناصر کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کا عزم کیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق سوراب میں مسلح افراد نے پولیس اسٹیشن پر بھی حملہ کرکےاسے آگ لگادی۔
وزیراعظم شہباز شریف کا اظہار مذمتوزیراعظم شہباز شریف نے سوراب بلوچستان میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے شہید ہدایت اللّٰہ بلیدی کو خراج عقیدت پیش کیا، لواحقین سے اظہار ہمدردی اور صبر کی دعا کی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے معصوم اور نہتے شہریوں بشمول بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا، جن کے خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ افواج پاکستان بھارتی سرپرستی میں دہشت گردی پھیلانے والی پراکسیز کے سدباب کےلیے دن رات مصروف عمل ہیں، پوری قوم افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شہباز شریف کہا کہ
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز