"گولڈن ڈوم" ٹرمپ کے دور صدارت میں تیار نہیں ہو سکے گا، برطانوی اخبار
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
گارڈین نے پینٹاگون کے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس منصوبے پر عملدرآمد کا جو خاکہ تیار کیا گیا ہے، اس کے مطابق یہ دفاعی ہتھیار صرف مثالی حالات میں تجرباتی نمائش کے لیے 2028ء کے اختتام تک ہی تیار ہو سکیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ برطانوی اخبار "دی گارڈین" نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی میزائل دفاعی پروگرام، جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے (Golden Dome) کے نام سے شروع کیا تھا، ان کی مدت صدارت کے اختتام تک مکمل نہیں ہو سکے گا، حالانکہ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ یہ منصوبہ آئندہ تین برسوں میں مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔ اخبار کے مطابق، "سنہری گنبد" کا یہ منصوبہ خلا میں موجود ہتھیاروں کے ذریعے امریکہ پر ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، لیکن امریکی محکمہ دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ 2028ء سے قبل مکمل طور پر آپریشنل ہونے کی توقع نہیں ہے۔ گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس سے اعلان کیا تھا کہ یہ منصوبہ امریکی خلائی فورس کی نگرانی میں ہو گا، جس کی قیادت جنرل مائیکل جیٹلن کریں گے، اور انہوں نے اس منصوبے کے اپنی مدت صدارت کے دوران مکمل ہونے پر بھرپور اعتماد ظاہر کیا تھا۔ تاہم گارڈین نے پینٹاگون کے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس منصوبے پر عملدرآمد کا جو خاکہ تیار کیا گیا ہے، اس کے مطابق یہ دفاعی ہتھیار صرف مثالی حالات میں تجرباتی نمائش کے لیے 2028ء کے اختتام تک ہی تیار ہو سکیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔