پی پی 52 ضمنی الیکشن، (ن) لیگ کی حنا ارشد وڑائچ نے میدان مارلیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
پی پی 52 سمبڑیال کے ضمنی الیکشن کے تمام 185 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج میڈیا کو موصول ہوگئے، جس کے مطابق حنا ارشد وڑائچ 78419 ووٹ لے کرکامیاب ہوگئیں، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ فاخر نشاط گھمن 40037 ووٹ لے کر دوسرے نمبر رہے۔ اسلام ٹائمز۔ مسلم لیگ (ن) نے پی پی 52 سمبڑیال کا ضمنی الیکشن جیت لیا، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار دوسرے نمبر پر رہے۔ تمام 185 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج میڈیا کو موصول ہوگئے، جس کے مطابق حنا ارشد وڑائچ 78419 ووٹ لے کرکامیاب ہوگئیں، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ فاخر نشاط گھمن 40037 ووٹ لے کر دوسرے نمبر رہے۔ حنا ارشد وڑئچ کو پی ٹی آئی امیدوار پر 38449 ووٹوں کی برتری حاصل ہوئی۔
ضمنی الیکشن میں کامیابی پر حنا ارشد وڑائچ کی رہائش گاہ پر جشن کا سماں ہے، کارکنوں نے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے اور جیت کی خوشی میں نعرے بازی کی۔ آتش بازی کا بھی شاندار مظاہرہ کیا گیا، مسلم لیگ نون کے مقامی راہنما بھی حنا ارشد وڑائچ کی رہائش گاہ پہنچ گئے ہیں، واضح رہے کہ یہ نشست مسلم لیگ نون کے رکن پنجاب اسمبلی چوہدری ارشد وڑائچ کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حنا ارشد وڑائچ ضمنی الیکشن پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔