ویزہ خلاف ورزی میں ملوث پاکستانی خاندان کا 45 لاکھ سے زائد جرمانہ منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
ابوظہبی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون 2025ء ) متحدہ عرب امارات کے جج نے ویزہ کی خلاف ورزی کرنے والے پاکستان خاندان کا 60 ہزار درہم کا جرمانہ منسوخ کردیا، جج کیلئے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زید آل نہیان کی طرف سے اعزازی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ خلیجی میڈیا کے مطابق حال ہی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید آل نہیان نے ایک اعزازی تقریب کے دوران جج کے حسن سلوک کی تعریف کی کیوں کہ ام القوین فیڈرل کورٹ آف فرسٹ انسٹینس کے جج حامد ال علی نے ایک پاکستانی شخص پر عائد 60 ہزار درہم ( 45 لاکھ 86 ہزار پاکستانی روپے سے زائد ) کا جرمانہ منسوخ کردیا جو اپنے، اپنی اہلیہ اور اپنے 4 بچوں کے پانچ سال سے زائد عرصے کے لیے رہائشی ویزے کی تجدید نہیں کروا سکا تھا۔
امارات الیوم نے رپورٹ کیا ہے کہ اس کیس میں ایک باپ شامل تھا جو ذاتی حالات کی وجہ سے غیر دانستہ طور پر زیادہ قیام کرچکا تھا، اس نے عدالت میں وضاحت کی کہ وہ اپنے اماراتی سپانسر کی دیکھ بھال کر رہا تھا جس میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور اس دوران اس کو اپنی قانونی حیثیت کا پتہ ہی نہیں چل سکا۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ کیس نے اس وقت ایک قابل ذکر موڑ لیا جب اس کی سماعت زید ہیومینٹیرین ورک ڈے کے موقع پر ہوئی، یہ دن ایک ایسا قومی موقع ہے جس میں یو اے ای کے بانی کی رحم دلی کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے، سماعت کا احوال شیئر کرتے ہوئے جج ال علی نے بتایا کہ اس نے کنڈورا میں ملبوس اس شخص کے نوجوان بیٹے کو دیکھا جو اس کے پاس کھڑا تھا اور اس کا نام پوچھا، لڑکے نے نرمی سے جواب دیا ’زید‘، یہ سنتے ہی جج نے اپنے کندھوں سے متحدہ عرب امارات کے پرچم کا اسکارف ہٹا کر بچے کے اوپر لپیٹ دیا اور جرمانے کو باضابطہ طور پر منسوخ کرنے سے پہلے ریمارکس دیئے کہ ’زید کو جرمانہ نہیں کیا گیا بلکہ زید کو عزت دی گئی ہے‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔