بانی پی ٹی آئی کا پولی گراف ٹیسٹ، لاہور پولیس کی تفتیشی ٹیم اڈیالہ جیل پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
—فائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے پولی گراف ٹیسٹ کےلیے لاہور پولیس کی تفتیشی ٹیم اڈیالہ جیل پہنچ گئی۔
لاہور پولیس کی تفتشی ٹیم کی سربراہی ڈی ایس پی آصف جاوید کر رہے ہیں، تفتیشی ٹیم میں پنجاب فارنزک یونٹ کے ارکان بھی شامل ہیں۔
ڈی ایس پی جاوید آصف نے کہا کہ ملزم ٹیسٹ نہیں کرائے گا تو تفتیش کیسے مکمل ہوسکتی ہے
ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم بانی پی ٹی آئی سے فوٹو گرامیٹک، پولی گراف اور وائس میچنگ ٹیسٹ کرے گی۔
ڈی ایس پی جاوید آصف نے کہا کہ ملزم ٹیسٹ نہیں کرائے گا تو تفتیش کیسے مکمل نہیں ہو سکتی ہے، ٹیسٹ مکمل ہونے پر ہی پتہ چلے گا شواہد درست ہیں یا نہیں، ٹیسٹ نہ ہوئے تو تفتیش کا عمل آگے نہیں بڑھے گا۔
تفتیشی ٹیم نے لاہور میں درج 9 مئی کے 11 مقدمات کے حوالے سے تفتیش کرنی ہے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی اس سے پہلے 3 مرتبہ پولی گراف ٹیسٹ کروانے سے انکار کر چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پولی گراف ٹیسٹ تفتیشی ٹیم پی ٹی آئی
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔