منیب بٹ کا ’’قربانی کا اونٹ‘‘ بھاگ گیا، مداحوں سے خاص اپیل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
عیدالاضحیٰ کی تیاریاں عروج پر ہیں اور گلی محلوں میں قربانی کے جانوروں کی رونقیں نظر آ رہی ہیں اسی خوشگوار ماحول میں اداکار منیب بٹ کے ساتھ ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی منیب بٹ نے عید کے لیے ایک خوبصورت اونٹ خریدا تھا جسے خاص انداز میں سجایا گیا تھا لیکن محلے کے بچوں نے شوق میں اونٹ پر پتھر پھینکنا شروع کر دیے جس کے باعث اونٹ ڈر کر رسی تڑوا کر بھاگ نکلا یہ منظر سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہوگیا جسے جلد ہی انسٹاگرام پر شیئر کیا گیا ویڈیو میں اونٹ کو خراماں خراماں گلیوں میں چلتے اور لوگوں کو راستہ چھوڑتے دیکھا جا سکتا ہے اداکارہ منال خان نے بھی یہ ویڈیو اپنی اسٹوری پر شیئر کی اور منیب و ایمن خان کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ آپ کا اونٹ وائرل ہوگیا ہے منیب بٹ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے انسٹاگرام پر لکھا کہ اونٹ واقعی بچوں کی شرارت سے ڈر کر بھاگا تھا اور والدین سے اپیل کی کہ اپنے بچوں کو قربانی کے جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کریں کیونکہ یہ جانور اجنبی ماحول میں پہلے ہی گھبرائے ہوئے ہوتے ہیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بچوں کی آن لائن حفاظت: ٹک ٹاک پر یورپی یونین کی فرد جرم عائد
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 24 جولائی 2026ء) یورپی یونین کے حکام کے مطابق اس پلیٹ فارم کے بعض ڈیزائن فیچرز بچوں کو جنسی استحصال کرنے والے افراد اور سائبر بُلیئنگ جیسے خطرات سے دوچار کر سکتے ہیں۔
یہ الزامات ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (ڈی ایس اے) کے تحت جاری کیے گئے ابتدائی نتائج کے بعد عائد کیے گئے ہیں۔ اس قانون کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر غیر قانونی اور نقصان دہ آن لائن مواد کی روک تھام کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرنا لازم ہے۔
گزشتہ دو برسوں کے دوران ٹک ٹاک کے خلاف یہ چوتھا بڑا مقدمہ ہے۔یورپی یونین کے انتظامی بازو یورپی کمیشن کے ٹیکنالوجی کے شعبے کا نگران ذیلی دفتر کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کے صارف اکاؤنٹس ڈی ایس اے کے حفاظتی معیارات پر پورا نہیں اترتے۔
(جاری ہے)
یورپی کمیشن کے مطابق ٹک ٹاک بچوں کو اپنے اکاؤنٹس پبلک رکھنے کی اجازت دیتا ہے، جس سے ان کی پوسٹس ہر شخص کے لیے قابل رسائی ہو جاتی ہیں اور وہ سائبر بُلیئنگ یا آن لائن بدسلوکی کرنے والے افراد کے ساتھ رابطے میں آ جانے کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
کمیشن نے مزید کہا کہ پرائیویٹ اکاؤنٹس رکھنے والے بچوں کو بھی مکمل تحفظ حاصل نہیں، کیونکہ دوسرے صارفین کی 'فالونگ‘ اور 'فالورز‘ فہرستوں کے ذریعے ان کے اکاؤنٹس آسانی سے تلاش کیے جا سکتے ہیں، حتیٰ کہ ایسے افراد بھی انہیں ڈھونڈ سکتے ہیں جن کا ٹک ٹاک پر اپنا کوئی اکاؤنٹ موجود نہ ہو۔
یورپی کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ کم عمر صارفین کے پبلک اکاؤنٹس کی ڈیفالٹ سیٹنگز تبدیل کی جائیں تاکہ ان کا مواد ازخود صرف انہی ٹک ٹاک صارفین کو نظر آئے جنہیں متعلقہ بچوں نے خود اجازت دے رکھی ہو۔
ٹک ٹاک کا ردعملدوسری جانب ٹک ٹاک نے کہا ہے کہ وہ یورپی کمیشن کے ابتدائی تحقیقاتی نتائج کا جائزہ لے گا اور ریگولیٹر کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھے گا۔
اس کمپنی کے ایک بیان میں کہا گیا، ''ٹک ٹاک پر نوعمر صارفین کے اکاؤنٹس میں رجسٹریشن کے وقت ہی ماہرین کی مشاورت سے تیار کردہ 50 سے زائد پرائیویسی اور حفاظتی فیچرز فعال ہوتے ہیں۔
‘‘اب ٹک ٹاک کو یورپی کمیشن کی دستاویزات کا جائزہ لینے اور اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا، جس کے بعد کمیشن اپنا حتمی فیصلہ جاری کرے گا۔ اگر اس کمپنی کے خلاف عائد کردہ الزامات ثابت ہو گئے، تو ٹک تاک پر اس کی سالانہ عالمی آمدنی کے 6 فیصد تک کے برابر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ٹک ٹاک اس سے قبل بھی دو مقدمات میں ممکنہ جرمانوں سے بچنے کے لیے یورپی ریگولیٹرز کو مختلف رعایتیں دینے پر آمادہ ہو چکا ہے، جبکہ اس کے خلاف ایک کیس میں تحقیقات تاحال جاری ہیں۔
ادارت: مقبول ملک