سلامتی کونسل کے منتخب اراکین کے ساتھ بہت مفید اور اہم تبادلہ خیال کیا، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور پاکستانی سفارتی مشن کے قائد بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منتخب اراکین (E10) کے سفیروں کے ساتھ پاکستانی وفد کے ہمراہ کافی مفید اور اہم تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں بھارت کی بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزیوں کے سامنے پاکستان کے اصولی اور ذمہ دارانہ موقف سے انھیں آگاہ کیا گیا۔
بلاول بھٹو نے اپنے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اس حوالے سے کہا کہ ہم نے اپنے اس عہد کا اعادہ کیا کہ صبر و تحمل، سفارتکاری، بات چیت اور بین الاقوامی قواعد و ضوابط کے اصولوں کی پابندی کرینگے۔
انھوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے خطرات سے آگاہ کیا اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انکا کہنا تھا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی واضح طور پر مذمت کرتا ہے اور دہشت گردی کا شکار ہے اور یہ دہشتگردی ہماری سرحدوں کے باہر سے منصوبہ بند کے ساتھ اسپانسر کی گئی ہے۔
انھوں نے کہا ہم تنازعات کے خواہاں نہیں ہیں، لیکن اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ جنوبی ایشیا ایک اور بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔ امن ذمہ داری کے ساتھ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔