بیٹی بچاؤ نعرہ یا مجرم بچاؤ ایجنڈا؟ مودی سرکار کا دوہرا چہرہ بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
انتہا پسند بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد سے بھارت خواتین کے لیے غیر محفوظ ملک بن چکا جہاں آئے روز خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات معمول بن گئے۔
مودی اور بی جے پی خواتین سے زیادتی کرنے والے درندوں کی حمایت کرنے لگے۔
بی بی سی کے مطابق بی جے پی نے سیکڑوں خواتین کے ساتھ زیادتی کے مجرم ریوانا کو 2024ء کے انتخابات میں اپنا امیدوار نامزد کیا۔ جون 2024 میں ریوانا پر 2,960 جنسی ویڈیوز بنانے اور خواتین کو نشانہ بنانے کا الزام لگا۔
جنسی زیادتی کے واقعات پر آل انڈیا مہیلا کانگریس کی صدر الکالامبا نے مودی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ’’مودی سرکار جنسی زیادتی کرنے والوں کی محافظ ہے اور جنتا دل (سیکولر) کے رکن پراچوال ریوانا کی حمایتی ہے۔‘‘
صدر الکا لامبا نے دعویٰ کیا کہ مودی سرکار اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے پراچوال ریوانا کو بچا رہی ہے، اقتدار قائم رکھنے کے لیے جنتا دل (سیکولر) سمیت دیگر جماعتوں کی بیساکھیوں کی ضرورت ہے۔ پراچوال ریوانا کے مجرمانہ فعل پر خاموشی کا مطلب مودی حکومت ریپ ملزمان کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پراچوال ریوانا پر بات نہ کرنے کا واضح مطلب ملزم کا بی جے پی سے تعلق ہے، پراجول ریوانا کو بچا کر بی جے پی انصاف کا مذاق بنایا ہے۔ مودی کی خاموشی بی جے پی کے مجرم لیڈروں کے لیے ڈھال بن چکی ہے۔
صدر الکا لامبا نے کہا کہ ’’مودی صرف بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاو‘‘ کے نعرے تک محدود ہے جبکہ مودی حکومت کھلے عام مجرموں کی محافظ بن چکی ہے۔ پراجول ریوانا ملک سے فرار ہوا مگر مودی سرکار نے گرفتاری کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی، بی جے پی حکومت جنسی استحصال کے ملزمان کو باہر بھگا کر مظلوموں کو انصاف نہیں دے رہی۔
انکا کہنا تھا کہ مودی کی قیادت میں مجرموں کو سزا کے بجائے سیاسی تحفظ دیا جا رہا ہے۔ پراجول ریوانا جیسے درندوں پر کارروائی نہ ہونا مودی کے دوہرے معیار کو ثابت کرتا ہے، پراجول ریوانا کی حمایت میں بی جے پی کا رویہ پورے نظام انصاف پر سوالیہ نشان ہے۔
الکا لامبا نے الزام لگایا کہ مودی سرکار جنسی درندوں کو تحفظ دے کر خواتین کا اعتماد توڑ رہی ہے۔
بی جے پی کی حکومت اپنی بیٹیوں کے ساتھ نہیں کھڑی بلکہ مجرموں کو تحفظ دے رہی ہے۔ مودی کے دور حکومت میں بھارتی خواتین غیر محفوظ ہیں اور بی جے پی انہیں تحفظ دینے میں ناکام ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پراجول ریوانا مودی سرکار بی جے پی کے ساتھ کہ مودی کے لیے
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز