مذاکرات کیلئے کوئی سنجیدہ آفر ہوئی تو بات کریں گے: شبلی فراز
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز—فائل فوٹو
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز نے کہا ہے کہ خفیہ مذاکرات سے متعلق باتیں ہم بھی سن رہے ہیں، مذاکرات کیلئے کوئی سنجیدہ آفر ہوئی تو بات کریں گے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ملاقات میں صاف کہا کہ کسی سے مذاکرات نہیں ہو رہے۔
شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ہم کوئی احتجاج برائے احتجاج تو نہیں کرنا چاہتے، احتجاج اس لیے ہی کیا جاتا ہے کہ لوگوں کو حقوق نہیں ملتے، ملک کا سب سے بڑا سیاسی لیڈر اگر جیل میں ہے تو سیاسی جدوجہد تو کرنا ہوگی۔
پاکستان تحریکِ انصاف ( پی ٹی آئی) کے رہنما شبلی فراز کا کہنا ہے کہ احتجاجی سیاست دوبارہ سے شروع کرنے کے لیے پارٹی نے لائحہ عمل تیار کر لیا ہے۔
پی ٹی آئی کے رہنما نے کہا کہ جدوجہد کرنا ہمارا فرض بنتا ہے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تو نہیں بیٹھ سکتے، پہلے جو مذاکرات حکومت کے ساتھ ہوئے وہ بالکل سنجیدہ نہیں تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے صحیح طریقے سے تمام صورتِ حال کو ہینڈل نہیں کیا، مذاکرات کے دوران بانی پی ٹی آئی سے ہمیں ملنے نہیں دیتے تھے، باقی پارٹیوں کے لوگ اپنے سربراہوں سے ملتے تھے، ہمیں نہیں ملنے دیا جا رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ لوگ ہماری بات نہیں مانیں گے لوگ بانی پی ٹی آئی کی بات مانیں گے، مذاکرات ان کے ساتھ ہوتے ہیں جن کے پاس دینے اور لینے کے لیے کچھ ہو بھی، حکومت کے ساتھ مذاکرات وقت کا ضیاع کے سوا کچھ نہیں تھا۔
شبلی فراز نے یہ بھی کہا کہ پاک بھارت کشیدگی میں بانی پی ٹی آئی اور ورکرز نے ملک کو مکمل سپورٹ کیا، بھارت کو بھرپور جواب دیا وہ اپنی جگہ لیکن ملک کے مسائل اپنی جگہ کھڑے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی شبلی فراز نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔