یو اے ای میں پاکستانی سفیر کی جانب سے انڈیکس ایکسچینج کی مہم کی بھرپور تائید WhatsAppFacebookTwitter 0 3 June, 2025 سب نیوز

دبئی:انڈیکس ایکسچینج کی جانب سے قانونی ذرائع سے رقوم کی ترسیل کو فروغ دینے کے لیے جاری مہم “اب کی بار… چاند ستارے سے پیار!” یو اے ای میں مقیم پاکستانی برادری کے لیے حب الوطنی کا ایک خوبصورت پیغام بن کر ابھری ہے۔ اس قومی سطح کی مہم کو پاکستانی کمیونٹی نے غیرمعمولی پذیرائی بخشی ہے، جو نہ صرف وطن سے محبت کا مظہر ہے بلکہ قانونی مالی ذرائع کے فروغ میں بھی اہم سنگِ میل ثابت ہو رہی ہے۔

مہم کے تحت جو افراد انڈیکس ایکسچینج کے ذریعے قانونی ترسیلاتِ زر بھیجتے ہیں، انہیں پاکستانی پرچم بطور تحفہ دیا جا رہا ہے جو نہ صرف قومی محبت کی علامت ہے بلکہ اس مہم میں شرکت کرنے والے خوش نصیب پاکستانی قرعہ اندازی کے ذریعے پاکستان کے ریٹرن ٹکٹ جیتنے میں کامیاب ہوئے:انڈیکس ایکسچینج کے چیف آپریٹنگ آفیسر سید عبدالسلام نے اس کامیاب مہم پر پاکستانی کمیونٹی کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:“قانونی ترسیلاتِ زر نہ صرف ایک مالی عمل ہے بلکہ حب الوطنی کا عملی اظہار ہے۔

پاکستانی کمیونٹی نے جس جذبے سے اس مہم کو اپنایا ہے، وہ قابلِ ستائش ہے۔”اسی موقع پر چیف بزنس آفیسر میر کے رسول نے کہا:“انڈیکس ایکسچینج پاکستانی کمیونٹی کے اعتماد کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ہم ہر اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں جو ملک و قوم کے لیے فائدہ مند ہو، اور قانونی ذرائع سے ترسیلات اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔یو اے ای میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے بھی اس قومی مہم کےمعترف نکلے “اب کی بار… چاند ستارے سے پیار” مہم کو ایک مؤثر، قومی شعور بیدار کرنے والا اقدام قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مہم ہنڈی اور حوالہ جیسے غیر قانونی ذرائع کے خلاف ایک مثبت اور پُراثر قدم ہے۔ ہر محبِ وطن شہری کو چاہیے کہ وہ اپنے پرچم سے محبت کا عملی اظہار کرتے ہوئے، اس مہم کا حصہ بنے اور قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر کو فروغ دے۔یہ مہم 5 جون 2025 تک جاری رہے گی، اور اس دوران تمام قانونی ترسیل کنندگان کو پاکستانی پرچم دیا جائے گا، جو اگلی قرعہ اندازی میں شرکت کے لیے اہل ہوں گے۔“اب کی بار… چاند ستارے سے پیار” نہ صرف ایک سلوگن ہے، بلکہ یہ دیارِ غیر میں بسنے والے پاکستانیوں کے دلوں کی آواز بن چکا ہے — جو وطن سے محبت، شفاف مالی ذرائع، اور قومی قومی فلاح کے عزم کی عملی تصویر پیش کر رہا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے لیے 80 کروڑ ڈالر کے مالیاتی پیکیج کی منظوری دے دی ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے لیے 80 کروڑ ڈالر کے مالیاتی پیکیج کی منظوری دے دی بلوچستان: سکیورٹی فورسز کے 2 آپریشنز میں فتنۃ الہندوستان کے 7 دہشتگرد ہلاک بھارت کیساتھ حالیہ تنازع میں اپنے وسائل پر انحصار کیا، کہیں سے مدد نہیں لی: چیئرمین جوائنٹ چیفس سلامتی کونسل مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات حل کرانے کیلئے متحرک کردار ادا کرے، بلاول بھٹو کراچی: ملیر جیل سے 216 قیدی فرار، شدید فائرنگ، ایک ہلاک، 3 ایف سی اہلکار زخمی وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک ٹیرف کے خلاف نیپرا میں اپیل دائر کردی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: انڈیکس ایکسچینج یو اے ای میں

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • پاکستان نے چین کے لئے نیا سفیر نامزد کردیا
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار