اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے پنجاب سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے پنجاب پولیس کے سب انسپکٹر کو ملازمت پر بحال کردیا۔ ٹریبونل نے سب انسپکٹر کی اپیل کو جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے اسکی سزا کم کرکے تنخواہ میں تنزلی کا حکم دیا تھا جسے عدالت عظمیٰ نے غیرآئینی قرار دیا۔ 

جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلے میں قرار دیا کہ ٹریبونل  کے مطابق پراسیکیوشن الزامات ثابت کرنے کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا، اس کے باوجود ٹریبونل نے درخواست گزار کو بری کرنے کے بجائے صرف سزا کو کم کرنے کا انتخاب کیا۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جن مقدمات میں  سزا کی بنیاد مکمل طور پر بے بنیاد ہو وہاں ٹریبونل کا کردار رحم یا مصالحت کی مشق کرنا نہیں۔ ایک بار جب ٹریبونل نے طے کرلیا کہ الزامات بے بنیاد ہیں، تو واحد قانونی راستہ درخواست گزار کو بری کرنا تھا۔

مس کنڈکٹ ثابت کیے بغیر کوئی بھی سزا فطری انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے اور اس سے واضح طور پر ناانصافی ہوتی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی مقدمے میں دی گئی سزا کی جرم سے مطابقت ہونی چاہیے  اور اس اصول کو انتہائی احتیاط اور مکمل سیاق و سباق کے ساتھ نافذ کیا جانا چاہیے  خاص طور پر جب بنیادی حقوق اور انسانی وقار خطرے میں ہوں۔

اس عدالت نے حال ہی میں انتظامی اور ڈسپلنری فیصلوں کی قانونی حیثیت جانچنے کے لیے چار مرحلوں پر مشتمل ایک معیار کو اپنایا ہیجو یقینی بناتا ہے کہ حقوق میں مداخلت جائز، ضروری اور قانونی ہو۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ ٹریبونل کے اپنے نتائج اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ درخواست گزار کا  مبینہ مس کنڈکٹ ثابت کرنے کے لیے کوئی معتبر ثبوت موجود تھا نہ ہی  کوئی باقاعدہ انکوائری نہیں کی گئی۔ ایسی صورتحال میں کوئی بھی سزا چاہے کتنی ہی معمولی ہو وہ غیر متناسب ہے جبکہ  ثبوت کی عدم موجودگی کسی بھی سزا کے قانونی جواز کو ختم کر دیتی ہے۔

مزید برآں، آئین  کے آرٹیکلز 4، 14 اور 25، جو قانون کے مطابق سلوک، انسانی وقار اور قانون کے سامنے برابری کے حق کی ضمانت دیتے ہیں، تمام فورمز بشمول ٹریبونلز، سے تقاضا کرتے ہیں کہ تادیبی اقدامات نہ صرف قانونی ہوں بلکہ منصفانہ اور عادلانہ بھی ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد:

عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع