لاہور: محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے کے تمام ایئرپورٹس اور پاک فضائیہ کے بیسز کی 15 کلومیٹر کی حدود میں دفعہ 144 نافذ کردی ہے، پابندی کا اطلاق 5 جون سے 20 جون تک رہے گا۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق عیدالاضحیٰ کی آمد کی مناسبت سے فضائی سفر کو محفوظ بنانے کے لیے پابندی عائد کی گئی ہے۔
عیدالاضحیٰ کے دوران ایئرپورٹ کے قرب و جوار میں آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کے باعث پرندے کھلی آلائشوں کی جانب راغب ہوتے ہیں جو طیاروں اور مسافروں کے لیے سنگین خطرات کا باعث ہے، اس حوالے سے حالیہ برسوں کے دوران آگاہی مہمات بھی چلائی گئیں تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام ممکن ہوسکے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق دفعہ 144 کے اطلاق کے بعد ایئرپورٹس اور پاک فضائیہ کی بیسز کی 15 کلو میٹر کی حدود میں کبوتربازی، آتش بازی کرنا، ڈرونز اُڑانا، لیزر لائٹس کا استعمال یا پھر آلائشوں کو ایئرپورٹس کی حدود میں ٹھکانے لگانے پر پابندی ہوگی۔ پابندی کا اطلاق 20 جون تک رہے گا۔
پابندی کے زمرے میں آنے والے تمام اقدامات کو فلائٹ آپریشن کے لیے سنگین خطرہ بتایا کیا گیا ہے، فیصلہ انسانی جانوں اور املاک کو نقصانات سے بچانے کے لیے اُٹھایا گیا ہے۔
اس حوالے سے صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات کر دی گئی ہیں کہ وہ ایئرپورٹ کے اطراف میں صفائی سمیت دیگر اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
حالیہ کچھ برسوں کے دوران ملک میں پرندوں کے طیاروں کے ساتھ ٹکرانے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے باعث فلائٹ آپریشن تعطل کا شکار ہوئے۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کی حدود میں کے لیے

پڑھیں:

سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟

ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔

عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

متعلقہ مضامین

  • گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پنجاب و سندھ خریداری کا ہدف حاصل کیوں نہ کرسکے، مزمل اسلم
  • لاہور میں 4 روز کے دوران کتنی ملی میٹر بارش ہوئی؟ پی ڈی ایم اے رپورٹ جاری
  • امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقاتی و تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری