سول ڈیفنس پنجاب میں 5 ہزار سے زائد شہری بطور رضاکار رجسٹر، فیصل آباد سب سے آگے
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
محکمہ داخلہ کے جاری کردہ آن لائن پورٹل پر شہریوں کی جانب سے شاندار رسپانس سامنے آیا ہے اور اب تک 5 ہزار سے زائد افراد بطور سول ڈیفنس رضاکار رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔
سیکریٹری داخلہ پنجاب کے مطابق خدمت کے جذبے سے سرشار نوجوان بڑی تعداد میں رجسٹریشن کروا رہے ہیں، جن میں فیصل آباد پہلے، بہاولپور دوسرے اور رحیم یارخان تیسرے نمبر پر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم نے ہمیشہ مشکل کی گھڑی میں خود کو ایک باوقار اور متحد قوم ثابت کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سول ڈیفینس پنجاب کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 500 ملین روپے فنڈز جاری
سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی پر دن رات کام جاری ہے جبکہ سول ڈیفنس رضاکار 24 گھنٹے متاثرہ علاقوں میں سرگرم عمل ہیں۔
’اب تک لاکھوں متاثرین کو ان کی املاک اور مویشیوں سمیت محفوظ مقامات تک منتقل کیا گیا ہے۔ متاثرین کو ریسکیو کرنے کے بعد کھانا، ادویات اور محفوظ شیلٹر فراہم کیے جا رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کے تمام ادارے فیلڈ میں سرگرم ہیں جبکہ شہری بھی اپنی صلاحیت اور قابلیت کے مطابق رضاکارانہ طور پر سیلاب متاثرین کی خدمت میں مصروف ہیں۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں سول ڈیفینس اور ریسکیو 1122 کی فرضی مشقوں کا آغاز
’شہری ڈاکٹر، طبی عملہ، معلم، ریلیف کیمپ ورکرز، غوطہ خور، ویٹرنری ڈاکٹر، شیف، حجام اور مکینک کے طور پر رجسٹریشن کروا رہے ہیں۔‘
سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ اس وقت متاثرہ بہن بھائیوں کی مدد کرنا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔ بطور رضاکار خدمات سرانجام دینے والوں کو خصوصی تعریفی اسناد دی جائیں گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سول ڈیفنس میں بطور رضاکار رجسٹریشن کے لیے آن لائن پورٹل VCD.
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آن لائن پورٹل بہاولپور پنجاب رحیم یار خان سول ڈیفنس سول ڈیفینس سیکریٹری داخلہ فیصل آباد
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آن لائن پورٹل بہاولپور رحیم یار خان سول ڈیفنس سول ڈیفینس سیکریٹری داخلہ فیصل ا باد سیکریٹری داخلہ سول ڈیفنس
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں