عدالت میں سلمان فاروقی کو وکیل نے تھپڑ مار دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
ڈیفنس کراچی میں شہری پر تشدد کرنے والے سلمان فاروقی کو ایک وکیل نے تھپڑ مار دیا۔
کراچی کی عدالت نے ڈیفنس میں نوجوان پر بہنوں کے سامنے تشدد کے ملزم سلمان فاروقی کا 2 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر ایک وکیل نے سلمان فاروقی کو تھپڑ بھی مار دیا۔
نوجوان پر تشدد کے کیس میں اب تک سلمان فاروقی سمیت چار ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔
تشدد کا نشانہ بننے والے لڑکے سدھیر کا کہنا ہے کہ وہ بہنوں کو لینے خیابانِ اتحاد جارہا تھا، جیسے ہی بہنوں کے قریب پہنچا تو گاڑی سے ٹکر ہوئی اور گاڑی میں سوار شخص نے تشدد کرنا شروع کردیا۔
وہ معافی مانگتا رہا مگر کسی نے اُس کی نہ سنی، قریب موجود ایک شخص نے اسلحے کے زور پر گاڑی میں بٹھایا، اسلحہ بردار شخص بھی تشدد کا نشانہ بناتا رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سلمان فاروقی
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔