پشاور کی مویشی منڈی میں ‘ڈونلڈ ٹرمپ’ نامی بھینسے کی دھوم
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
عیدالاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی پشاور کی مویشی منڈی میں مختلف رنگ و نسل کے جانور دیکھنے کو مل رہے ہیں، مگر اس بار ایک ایسا جانور سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جس کا نام ہی لوگوں کو چونکا دیتا ہے — ’ڈونلڈ ٹرمپ‘۔
یہ خاص بھینسا، جس کا نام اس کے مالک نے موجودہ امریکی صدر کے نام پر رکھا ہے۔ یہ نہ صرف اپنے انوکھے نام بلکہ اپنی خوبصورتی، جسامت اور اعلیٰ خوراک کی وجہ سے بھی منڈی کا سپر اسٹار بن چکا ہے۔ منڈی میں آنے والے شوقین حضرات نہ صرف اس کی تصاویر بناتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ سیلفیاں لینے پر بھی فخر محسوس کرتے ہیں۔
ناز سے پالا ہوا ‘ ڈونلڈ ٹرمپ’بھینسے کے مالک نے بتایا کہ انھوں اس کو بچوں کی طرح پالا ہے۔ اس کی خوراک عام جانوروں سے بالکل مختلف ہے۔ ہم نے اسے دودھ، خالص سرسوں کا تیل، اور مختلف قسم کی گرم خوراک دے کر تیار کیا ہے۔ اس کے لیے سردی گرمی کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔
یہ جوان اور صحتمند بھینسا دیکھنے میں جس قدر دلکش ہے، اسی قدر مہنگا بھی ہے۔
قیمت اور بھاؤ تاؤمالک کا کہنا ہے کہ وہ اس کی 25 لاکھ روپے قیمت مانگ رہا ہے۔ اب تک کئی خریدار اس میں دلچسپی دکھا چکے ہیں اور سب سے زیادہ بولی 16 لاکھ روپے کی لگ چکی ہے، مگر مالک کا کہنا ہے کہ 16 لاکھ میں دینا میرے لیے نقصان ہے۔ اس میں اتنی محنت اور وقت لگا ہے کہ اس کی اصل قیمت کم از کم 24 لاکھ ہے۔
مزے کا گوشتمالک نے مزید کہا کہ یہ بھینسا نہ صرف خوبصورت ہے بلکہ اس کا گوشت بھی لاجواب ہوگا۔
‘یہ جوان بھینسا ہے، اس کا گوشت انتہائی لذیذ اور نرم ہوگا۔ جس نے بھی قربانی کے لیے خریدا، وہ یاد رکھے گا۔’
منڈی کا مرکزِ نگاہپشاور کی مویشی منڈی میں روزانہ ہزاروں افراد آتے ہیں، مگر ’ڈونلڈ ٹرمپ‘ کی انٹری نے منڈی کی رونق کو دوبالا کر دیا ہے۔ بچے، نوجوان اور بڑے سبھی اسے دیکھنے آ رہے ہیں، اور سوشل میڈیا پر بھی اس کی دھوم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔