یونین کونسل میں بچے کی پیدائش پر اندراج سے متعلق نادرا کا اہم بیان
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے عوامی آگاہی کے لیے پیغام شیئر کیا ہے جس میں شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی متعلقہ یونین کونسلوں میں بچوں کی پیدائش کی بروقت اور درست رجسٹریشن کو یقینی بنائیں۔
پاکستان میں وفاقی اور صوبائی قوانین کے مطابق بچے کے صرف قریبی رشتہ دار جن کے پاس درست شناختی کارڈ ہے وہ ہی یونین کونسل میں بچوں کی پیدائش کا اندراج کرنے کے مجاز ہیں۔
ان رشتہ داروں میں والدین (ماں یا باپ)، بہن بھائی، دادا دادی (ماں اور پھوپھی)، چچا اور خالہ (چاچا، تایا، پھوپھو، ماموں اور خالہ شامل ہیں۔)
نادرا نے اس بات پر زور دیا کہ پیدائش کا صحیح اندراج ایک قانونی ذمہ داری ہے اور سرکاری دستاویزات جیسے چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (سی آر سی)، جسے عام طور پر “ب -فارم” کہا جاتا ہے جاری کرنے کے لیے ضروری ہے۔
یونین کونسل میں پیدائش کے رجسٹر ہونے اور کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ اپ ڈیٹ ہونے کے بعد، والدین یا سرپرست بچے کا ب فارم حاصل کرنے کے لیے نادرا کے دفاتر جا سکتے ہیں۔
نادرا ب فارم کی فیس جون 2025
ب فارم نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ریکارڈ میں نوزائیدہ بچے کے اندراج کے لیے ایک ضروری دستاویز ہے۔
ب فارم ہر بچے کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے آبائی مقام سے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کرے۔
نادرا ب فارم کی عام فیس 50 روپے ہے جبکہ رجسٹریشن اتھارٹی کی جانب سے 500 روپے میں ایگزیکٹو سروس بھی پیش کی جاتی ہے۔
مزیدپڑھیں:ٹام کروز کی مبینہ گرل فرینڈ کا پاکستان کیلئے خصوصی ویڈیو پیغام
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔