انڈونیشیا کی جے ٹین کی خریداری میں دلچسپی
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 04 جون 2025ء) انڈونیشیا کے مطابق ملکی افواج کو جدید بنانے کے سلسلے میں کاوشیں جاری ہیں اور وہچینی ساختہ جے ٹینجنگی طیارے خریدنے پر غور کر رہا ہے۔ انڈونیشیا کے مطابق یہ نسبتاً سستے اور جدید صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ ساتھ ہی انڈونیشیا امریکی ساختہ ایف پندرہ ای ایکس طیاروں کی خریداری کو حتمی شکل دینے پر بھی غور کر رہا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا نے حالیہ برسوں میں اپنی پرانی فوجی مشینری کو جدید بنانے کی کوششیں شروع کر رکھی ہیں۔ 2022 میں، انڈونیشیا نے 8.
انڈونیشی نائب وزیر دفاع اور ریٹائرڈ ایئر مارشل ڈونی ایرماوان تاؤفانتو نے کہا،''ہماری چین سے بات چیت ہو رہی ہے اور انہوں نے ہمیں بہت کچھ پیش کیا ہے، صرف J-10 ہی نہیں بلکہ بحری جہاز، اسلحہ، اور فریگیٹس بھی۔
(جاری ہے)
‘‘انہوں نے مزید کہا کہ اس ممکنہ خریداری پر ایک سال سے زیادہ عرصے سے غور کیا جا رہا ہے، تاہم اب انڈونیشیا ان رپورٹس کو بھی مدنظر رکھے ہوئے ہے کہ پاکستانی جے ٹین طیاروں نے کئی بھارتی طیارے مار گرائے۔
تاؤفانٹو نے بتایا کہ جکارتہ امریکی ساختہ F-15EX طیاروں کی خریداری کے اگلے مرحلے پر بھی غور کر رہا ہے، جو 2023 میںامریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کے ساتھ وزارتِ دفاع کے معاہدے کے تحت خریدے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی طیاروں کی صلاحیتیں آزمودہ ہیں، لیکن 24 طیاروں کے لیے 8 ارب ڈالر کی طے کردہ قیمت اب بھی سوالیہ نشان ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے گزشتہ ہفتے جکارتہ میں انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ دونوں ممالک نے ایک ابتدائی دفاعی معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت فرانسیسی ہتھیاروں، بشمول رافیل طیاروں کی نئی خریداری ممکن ہے۔
تاؤفانٹو نے کہا، ''ہم فرانس کی پیشکش پر غور کر رہے ہیں اور اپنے بجٹ پر بھی، ہم تجزیہ کر رہے ہیں، خاص طور پر جب ہمارے پاس J-10 اور F-15 جیسے دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔‘‘
ادارت: کشور مصطفیٰ
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے طیاروں کی رہا ہے
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔