اردن اور ازبکستان نے پہلی بار فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
اردن اور ازبکستان نے 2026 کے فیفا ورلڈ کپ کے لیے اپنی جگہ پکی کر لی ہے۔ عمان کے خلاف 0-3 کی شاندار فتح نے نہ صرف اردنی ٹیم کو گروپ بی میں سرفہرست 2 ٹیموں میں شامل کیا بلکہ یہ کامیابی ان کے فٹبال کی تاریخ میں ایک نیا باب بھی رقم کر گئی۔ اس میچ میں علی علوان نے ہیٹ ٹرک اسکور کرکے فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ادھر جنوبی کوریا کی ٹیم ’ٹیگوک واریئرز‘ نے بھی عراق کو 0-2 سے شکست دے کر مسلسل گیارہویں بار ورلڈ کپ میں جگہ بنائی۔ اس میچ میں عراق کے علی الحمادی کو ابتدا ہی میں سرخ کارڈ دکھایا گیا، جس کے بعد کم جن گیو اور او ہیون گیو نے گول اسکور کرکے میچ کو یکطرفہ بنا دیا۔ جنوبی کوریا کی اس جیت سے اردن کی راہ مزید ہموار ہوئی۔
مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2026: جاپان نے سب سے پہلے کوالیفائی کرلیا
ایک اور اہم پیشرفت میں ازبکستان نے بھی پہلی بار ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ ابو ظہبی میں متحدہ عرب امارات کے خلاف 0-0 سے ڈرا میچ کھیل کر ازبک ٹیم نے گروپ اے میں ایران کے بعد دوسرا خودکار کوالیفائی مقام حاصل کیا۔ اس کامیابی میں گول کیپر اُتکیر یوسوپوف کا ناقابل تسخیر دفاع نمایاں رہا۔
اردن اور ازبکستان کی یہ تاریخی فتوحات ایشیائی فٹبال میں ابھرتی ہوئی قوتوں کی عکاسی کرتی ہیں، جبکہ ان ممالک کے شائقین کے لیے یہ لمحہ ایک خواب کی تعبیر ہے۔ ان پیشرفتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2026 کا ورلڈ کپ ایشیا کے لیے کئی حوالوں سے یادگار ثابت ہو سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اردن ازبکستان فیفا فیفا ورلڈ کپ 2026.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ازبکستان فیفا فیفا ورلڈ کپ 2026
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔