اب کوئی نوگو ایریا نہیں رہا، پولیو ٹیمیں ہر بچے تک پہنچ رہی ہیں: سیکریٹری صحت خیبر پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے سیکریٹری ہیلتھ شاہداللّٰہ نے بتایا ہے کہ صوبے میں اب کوئی نوگو ایریا نہیں رہا، انسداد پولیو مہم ٹیمیں ہر بچے تک پہنچ رہی ہیں۔
خیبر پختونخوا کے سیکریٹری ہیلتھ شاہداللّٰہ نے بتایا ہے کہ اپرجنوبی وزیرستان میں 4 سال بعد گھر گھر جاکر پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ اپر جنوبی وزیرستان میں 22 ہزار767 بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف تھا۔
خیبر پختون خوا میں رواں سال کی پہلی انسدادِ پولیو مہم کا آغاز آج سے ہو گیا۔
سیکریٹری صحت نے کہا کہ کرم میں ایک سال بعد ایک لاکھ 24 ہزار بچوں کو قطرے پلائے گئے اسی طرح بنوں کے دور دراز علاقوں میں 2 سال بعد 2 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو قطرے پلائے گئے۔
شاہداللّٰہ نے بتایا کہ شمالی وزیرستان میں ایک سال سے پولیو مہم نہیں کی جاسکی تھی، اس بار شمالی وزیرستان میں 90 فیصد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے۔
سیکریٹری صحت نے مزید بتایا ہے کہ لکی مروت میں انسداد پولیو مہم کا بائیکاٹ ختم کروا دیا گیا۔
انہوں نے بتایا ہے کہ پہلی بار پولیو مہم میں عدم دستیاب بچوں کا ڈیٹا بھی شامل کیا جا رہا ہے، صوبے میں باضابطہ ضروری پر فارمنس کے انڈیکیٹرز متعین کیے گئے ہیں اور 60 فیصد سے کم اسکور پر عملے کے خلاف کارروائی کی جائے گی، کارکردگی نہ ہونے پر عملے کو فارغ کیا جائے گا۔
سیکریٹری صحت کے پی کے نے بتایا ہے کہ صوبائی حکومت کے احکامات ہیں، جرگہ سسٹم، علماءکے تعاون، مشران اور سیاسی و مقامی نمائندوں کے ذریعے اب ہر بچے تک رسائی کی جارہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قطرے پلائے گئے نے بتایا ہے کہ وزیرستان میں سیکریٹری صحت پولیو مہم بچوں کو
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔