وزیراعظم کا ٹرمپ کو امن کا پیامبر قرار دینا ذہنی غلامی کی انتہا(حافظ نعیم)
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
امریکہ بموں اور بھوک سے مرنے والے معصوم بچوں عورتوں کے قتل عام میں برابر کا شریک ہے
شہباز شریف ٹرمپ کو امن کے چمپئن شپ کے سرٹیفکیٹ بانٹ رہے ہیں، امیر جماعت اسلامی کا ردعمل
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا ٹرمپ کو امن کا پیامبر قرار دینا ذہنی غلامی کی انتہا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایک بارپھر غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کردیا ہے، امریکہ فلسطینیوں کی نسل کشی میں اسرائیل کا سرپرست ہے، بموں اور بھوک سے مرنے والے معصوم بچوں اور عورتوں کے قتل عام میں برابر کا شریک ہے اور شہباز شریف ٹرمپ کو امن کے چمپئن شپ کے سرٹیفکیٹ بانٹ رہے ہیں، غلامی و چاپلوسی اور کیا ہوتی ہے؟۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ٹرمپ کو امن
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔