علی ظفر کے شینا زبان میں پہلے میوزک ویڈیو 'کرے کرے' نے ریلیز ہوتے ہی دھوم مچا دی
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
عوام کے دلوں پر راج کرنے والے گلوکار علی ظفر نے عید الاضحیٰ کے موقع پر مداحوں سے کیا وعدہ پورا کرتے ہوئے شینا زبان میں اپنا پہلا میوزک ویڈیو ’کرے کرے‘ جاری کر دیا ہے۔
گانے میں گلگت بلتستان کی خوبصورتی، روایات اور ثقافتی رنگوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس میوزک ویڈیو میں علی ظفر کے ساتھ مقامی گلوکار سلمان پارس بھی شامل ہیں، جبکہ اس کی کمپوزیشن بھی سلمان پارس ہی نے کی ہے۔
ویڈیو کی ہدایت کاری اور پروڈکشن خود علی ظفر نے علی مصطفیٰ کے اشتراک سے انجام دی ہے، جبکہ گیت کے بول ظفر وقار تاج نے تحریر کیے۔
https://www.instagram.com/reel/DKj2zYeNQYi/
علی ظفر نے اس ویڈیو کے ساتھ سوشل میڈیا پر عید کی مبارکباد دیتے ہوئے گلگت بلتستان کے عوام اور ان کے مہمان نواز رویے کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو پاکستان کی خوبصورتی دیکھنی چاہیے، اور یہی پیغام ’کرے کرے‘ کے ذریعے دیا گیا ہے۔
ویڈیو کو ریلیز کے ابتدائی 24 گھنٹوں میں 77 ہزار سے زائد ویوز مل چکے ہیں اور یہ تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے علی ظفر کی اس کاوش کو خوب سراہا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ علی ظفر اس سے قبل بھی سرائیکی، سندھی، بلوچی، پنجابی اور پشتون زبان میں گانے ریلیز کر چکے ہیں جو عوام میں بےحد مقبول ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علی ظفر
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔