شہباز شریف کا ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی، عالمی پیشرفت پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
عیدالاضحیٰ کے موقع پر ٹیلیفونک گفتگو میں وزیراعظم اور ایرانی صدر نے ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دی اور علاقائی و عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں حالیہ پاک بھارت بحران کے ساتھ ساتھ غزہ کی تشویشناک صورتحال بھی شامل ہے۔ وزیراعظم نے ایران کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، دونوں راہنماؤں نے ایک دوسرے کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد دی۔ وزیراعظم نے ایران کے عوام کو بھی عید کی مبارکباد دی، شہباز شریف کا ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ شہباز شریف نے راہبر آیت اللہ علی خامنہ ای کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔ تہران کے اپنے حالیہ دورہ کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔
دونوں راہنماؤں نے علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں حالیہ پاک بھارت بحران کے ساتھ ساتھ غزہ کی تشویشناک صورتحال بھی شامل ہے۔ وزیراعظم نے ایران کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے صدر پزشکیان کو پاکستان کےدورے کی دعوت دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شہباز شریف ایران کے کے ساتھ
پڑھیں:
دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں بھارت کا کردار بالکل واضح ہے، جبکہ افغان عبوری حکومت دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم ملکی استحکام، دفاع اور قومی یکجہتی میں اس کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی اور قیامِ پاکستان میں بھی بلوچستان کے عوام نے تاریخی کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے مستونگ میں سیشن جج پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایک وقت ایسا تھا جب ملک سے دہشت گردی کا تقریباً مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس چیلنج کا مقابلہ پوری قوم کو متحد ہو کر کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیاں عالمی سطح پر ملک کے مثبت تشخص کی عکاس ہیں۔ انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی برادری قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاق اور چاروں صوبوں کے باہمی تعاون سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور پاکستان کو معاشی ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچایا جائے گا۔