پہلے تھپڑ منسا نے مارا، میں نے جواب میں جوتا پھینکا، علیزے شاہ کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
اداکارہ علیزے شاہ نے حال ہی میں اپنے ڈرامہ محبت کی آخری کہانی کی ساتھی اداکارہ منسا ملک کے ساتھ پیش آنے والے تنازع پر خاموشی توڑتے ہوئے اہم انکشافات کیے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری کردہ ویڈیو بیان میں علیزے شاہ نے دعویٰ کیا کہ جھگڑے کی شروعات اُنہوں نے نہیں کی، بلکہ منسا ملک نے پہلے اُنہیں تھپڑ مارا، جس کے جواب میں علیزے نے غصے میں صرف اپنا جوتا پھینکا۔
علیزے شاہ نے مزید کہا کہ شوٹنگ کے دوران منسا ملک ان کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھتی تھیں اور دونوں سیٹ پر اچھی طرح وقت گزارتی تھیں، حتیٰ کہ منسا اُن کے ساتھ سگریٹ بھی پیا کرتی تھیں۔ لیکن اچانک منسا کا رویہ تبدیل ہو گیا اور اختلافات شروع ہو گئے، جن کی وجہ اُنہیں سمجھ نہیں آئی۔
علیزے نے بتایا کہ جھگڑے کے دوران معروف اداکار سمیع خان بھی وہاں موجود تھے اور انہوں نے پورا واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ علیزے کا کہنا تھا کہ وہ کسی قسم کے جھگڑے کی حامی نہیں لیکن اپنے دفاع میں ردِعمل دینا اُن کا حق ہے۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان سے پروڈکشن والوں نے کہا کہ ان کا ڈرامہ خراب ہوجائے گا اس لئے وہ ایف آئی آر نہ کروائیں مگر اگلی صبح ان کے ہی خلاف اسکینڈل بنا ہوا تھا اور کہا جارہا تھا کہ انہوں نے منسا کے کپڑے پھاڑ دیئے اور لڑائی جھگڑا کیا۔
یاد رہے کہ علیزے شاہ نے خود پر ہونے والی تنقید سے تنگ آکر ذہنی دباؤ سے نکلنے کیلئے ویڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں وہ اپنے آپ سے جڑے ہر اسکینڈل کی اصلیت بیان کر رہی ہیں اور انڈسٹری میں ان کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کا انکشاف بھی کر رہی ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔