یوئیفا نیشنز کپ 2025، پرتگال نے اسپین کو پنالٹی شوٹ آؤٹ میں شکست دے کر ٹائٹل جیت لیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
MUNICH:
پرتگال نے نیشنز لیگ 2025 کا فائنل ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں اسپین کو 5-3 سے شکست دے کر دوسری بار ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
میچ کے اختتام پر اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو جذبات کی رو میں بہہ کر اشکبار ہو گئے۔
میونخ میں کھیلے گئے اس فائنل میں مقررہ وقت تک مقابلہ 2-2 گول سے برابر رہا، جس کے بعد میچ کا فیصلہ پنالٹی شوٹ آؤٹ پر ہوا۔
پرتگال کی جانب سے تجربہ کار مڈفیلڈر روبن نیوس نے فیصلہ کن پنالٹی اسکور کی، جبکہ اسپین کے ایلواور موراتا کی پنالٹی مس ہونے نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
اسپین نے 21ویں منٹ میں مارٹن زوبیمنڈی کے گول کی بدولت برتری حاصل کی، تاہم پرتگال کی جانب سے نونو مینڈس نے کرسٹیانو رونالڈو کی شاندار موو کے نتیجے میں گیند کو جال میں پہنچا کر مقابلہ برابر کر دیا۔
مزید پڑھیں: یوئیفا یورو کپ اسپین نے فرانس کو ہرا کر فائنل میں جگہ بنا لی
اسپین نے دوبارہ برتری حاصل کی جب مڈفیلڈر پیڈری کے شاندار پاس پر میکل اویارزابال نے گول کیا، جو گزشتہ سال یورپی چیمپئن شپ کے فائنل میں انگلینڈ کے خلاف فاتحانہ گول کے ہیرو بھی تھے۔
تاہم 40 سالہ لیجنڈری فارورڈ رونالڈو نے 138 واں بین الاقوامی گول کرتے ہوئے پرتگال کو ایک بار پھر میچ میں واپس لایا۔
کھیل کا یہ لمحہ رونالڈو کے کیریئر میں ایک اور یادگار اضافہ تھا، جب کہ نوجوان ہسپانوی اسٹار لامین یامال اس میچ میں زیادہ نمایاں کارکردگی نہ دکھا سکے۔
میچ کے آخری لمحات میں رونالڈو زخمی ہو کر میدان سے باہر چلے گئے، جب کہ اضافی وقت میں بھی دونوں ٹیمیں کوئی گول نہ کر سکیں۔
شوٹ آؤٹ میں پرتگال نے تمام پانچ پنالٹیز کامیابی سے مکمل کیں، جبکہ اسپین کی ایک پنالٹی ضائع ہو گئی، جس نے پرتگال کی فتح پر مہر ثبت کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔