چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے پر مسلم لیگ ن کا حیران کن ردعمل آگیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
پشاور (ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے ایڈیشنل سیکریٹری اطلاعات زاہد خان نے چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے پر تعجب کا اظہار کیا ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے رہنما زاہد خان نے چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کو معیشت سمیت کئی چیلنجز درپیش ہیں، ایسے ماحول میں تنخواہوں میں فیصد اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف آئی ایم ایف سے قرضہ لے رہے ہیں اور دوسری طرف اپنی آسائش اور مراعات میں اضافے کئے جا رہے ہیں۔زاہد خان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اس سے قبل اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کر چکی ہے جب کہ ججز کی تنخواہوں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔
سول ہسپتال حیدرآباد کے سرجیکل آئی سی یو کی لفٹ میں لاش پھنس گئی
واضح رہے کہ دو روز قبل، وزارت پارلیمانی امور نے تنخواہوں میں اضافے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔نوٹی فکیشن کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی و چیئرمین سینیٹ کی تنخواہ 13 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، تنخواہ میں اضافہ یکم جنوری 2025 سے لاگو ہو گا۔
اس سے قبل سپیکر قومی اسمبلی و چیئرمین سینیٹ کی تنخواہ 2 لاکھ 5 ہزار روپے تھی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: تنخواہوں میں اضافے سپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں چیئرمین سینیٹ
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔