سینیٹ الیکشن خوش اسلوبی سے ہوئے: بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
بیرسٹر گوہر—فائل فوٹو
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ سینیٹ الیکشن خوش اسلوبی سے ہوئے۔
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سزائیں قانون کے تقاضوں کو پورا کیے بغیر دی گئی ہیں، عوام کا عدالتوں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سینیٹ الیکشن کے دوران کوئی بیلٹ پیپر باہر نہیں نکلا، پی ٹی آئی کے امیدوار بانی چیئرمین کے نامزد کردہ تھے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا یہ بھی کہنا ہے کہ مراد سعید سینیٹر منتخب ہوئے ہیں، ٹرائلز آئین و قانون کے مطابق ہونے چاہئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
فیصل جمیل :گلگت بلتستان انتخابات 2026 کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنما انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں،انتخابات کیلئے پولنگ 7 جون کو ہوگی۔
الیکشن سے قبل ہی حاجی اکبر تابان امیدوار پاکستان مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی، مہا جرین 1971 نے مسلم ن کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
دوسری جانب چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور خاتون اول آصفہ بھٹو آج گلگت اور ہنزہ کا دورہ کریں گے، دونوں رہنما ہنزہ میں عوامی اجتماع سے خطاب کریں گے جبکہ بلاول بھٹو زرداری کی گلگت میں پارٹی ٹکٹ ہولڈرز سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سکردو اور دیگر اضلاع میں انتخابی سرگرمیوں میں مصروف رہیں گے، وہ پارٹی رہنماؤں کے انتخابی دفاتر کا دورہ کریں گے اور کارکنان سے بھی خطاب کریں گے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق، عابد شیر علی، مرتضیٰ جاوید عباسی اور عابد رضا کوٹلہ مختلف مقامات پر جلسوں سے خطاب کریں گے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق ن لیگی رہنما آج مجموعی طور پر چار مقامات پر عوامی اجتماعات سے خطاب کریں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ادھر وفاقی وزیر انجنئیر امیر مقام بھی گلگت میں موجود ہیں جہاں ان کی مختلف سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں شیڈول ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں کی جانب سے ووٹرز کو متحرک کرنے کی کوششیں آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں ۔