لاس اینجلس مظاہرے: وائٹ ہاؤس کا دفاع، ٹرمپ نے گورنر کی گرفتاری کا مطالبہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
لاس اینجلس میں امیگریشن پالیسی کے خلاف پرتشدد مظاہروں پر قابو پانے کے لیے نیشنل گارڈ کی تعیناتی کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم کو گرفتار کر لیا جائے۔
ٹرمپ کی جانب سے سخت امیگریشن پالیسیوں کے نفاذ پر لاس اینجلس میں گزشتہ چار دنوں سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، گاڑیاں جلائی گئیں، اور مرکزی شاہراہیں بند کی گئیں۔
وائٹ ہاؤس نے ان مظاہروں کو قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے حق میں جواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال "مزید سخت اقدامات" کا تقاضا کرتی ہے۔
گورنر نیوسم نے نیشنل گارڈ کی تعیناتی کو غیر آئینی قرار دے کر وفاقی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر کہا: "یہی کچھ ٹرمپ چاہتا تھا، ہم اس غیرقانونی اقدام کے خلاف عدالت جا رہے ہیں۔"
دوسری جانب، ٹرمپ نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا: "اگر میں ٹام ہومین کی جگہ ہوتا، تو گورنر کو گرفتار کر لیتا۔ یہ ایک بہترین کام ہو گا۔"
ٹرمپ کی 'ون بگ بیوٹیفل بل' قانون سازی بھی خبروں میں ہے، جس میں بارڈر سیکیورٹی بڑھانے، ٹیکس میں کمی، اور گرین انرجی منصوبوں کو ختم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔
لاس اینجلس پولیس کے مطابق، اتوار کے روز مزید 10 افراد گرفتار کیے گئے، جب کہ ہفتہ کو 29 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے ڈاؤن ٹاؤن کو غیرقانونی اجتماع کا علاقہ قرار دے دیا۔
نیشنل گارڈ کے 300 اہلکار مختلف مقامات پر تعینات کیے گئے ہیں، جن کا کام وفاقی عمارتوں کی حفاظت کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لاس اینجلس
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔