آئندہ وفاقی بجٹ میں متعدد اشیا کی قیمتوں میں اضافے اور بعض کی قیمتوں میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ حکومت نے ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے نئی تجاویز بھی تیار کر لی ہیں۔

ذرائع کے مطابق 850 سی سی انجن تک کی مقامی تیار شدہ گاڑیاں مہنگی ہو سکتی ہیں کیونکہ ان پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 12.5 سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

علاوہ ازیں، بیکری مصنوعات، کھاد، اور کیڑے مارادویات پر بھی ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں، جس سے یہ اشیا بھی مہنگی ہو سکتی ہیں۔

دلچسپ طور پر، سگریٹ اور مشروبات پر ٹیکسوں میں کمی کی تجویز دی گئی ہے، جس کے باعث یہ مصنوعات سستی ہو سکتی ہیں، حکومت سگریٹ پر ہر سال ٹیکس بڑھانے کی پرانی روایت کو ختم کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔

بجٹ میں پراپرٹی سیکٹر سے متعلق اہم فیصلے بھی متوقع ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ پراپرٹی پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے اور کیپیٹل گین ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔

ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے آمدن حاصل کرنے والوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے، اس میں بیرون ملک سے فری لانسنگ یا سوشل میڈیا کے ذریعے آمدن حاصل کرنے والے افراد پر اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز بھی شامل ہے۔

اسی طرح، سابقہ فاٹا ریجن کو حاصل ٹیکس چھوٹ ختم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ٹیکس نیٹ

پڑھیں:

ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام

واشنگٹن:

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

https://t.co/Wtbk84dEsc

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026

سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست