کراچی، لانڈھی اور ملیر کے دھنسنے کا خطرہ بڑھنے لگا
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سنگاپور کی نانینگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے ماہرین ارضیات نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی کے علاقے لانڈھی اور ملیر 2014 سے 2020 کے دوران 15.7 سینٹی میٹر تک دھنس چکے ہیں۔
ماہرین کی رپورٹ کے مطابق، ان علاقوں کا دھنسنا چینی شہر تیانجن کے بعد دنیا میں سب سے تیز ترین رفتار سے ہو رہا ہے۔ اس کا بنیادی سبب زیرزمین پانی کا نکالنا اور نئی بلند عمارتوں کی تعمیر ہے۔
کراچی کا تین ارضی پلیٹوں — انڈین، یورشین اور عربین — کے باہمی ٹکراؤ کے مقام پر واقع ہونا بھی اس عمل میں ایک اہم عنصر ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر پانی نکالنے اور بلند عمارتوں کی تعمیر کا یہ عمل جاری رہا، تو شہر کے مزید علاقے دھنسنے کے علاوہ زلزلوں کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔
اس خطرے کے سدباب کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، جن میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے پلانٹس کی تنصیب اور بلند عمارتوں کی تعمیر پر پابندی شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
فوٹو: آن لائنلاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔
تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔
منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔